خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 387
387 خطبہ جمعہ 04/اگست 2006 خطبات مسرور جلد چهارم بڑھاتا چلا جائے اور ان سب لوگوں کے لئے شکریہ کے جذبات کے ساتھ ہمیں بھی یہ توفیق دے کہ ہم بھی حقیقی شکر گزار اس ذات کے بنیں جو اپنے مسیح و مہدی سے کئے گئے وعدوں کے مطابق خود وہ حالات پیدا کر رہا ہے جن میں اگر ہم غور کریں تو پتہ چلے گا کہ کسی انسانی کوشش کا عمل دخل نہیں۔ایسے حالات جس سے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت ہر لحہ نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے بلکہ اعلان فرمایا ہے کہ اے میرے بندو! اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش تم پر ہمیشہ پڑتی رہے بلکہ پہلے سے بڑھ کر پڑے تو ہمیشہ اس کے لئے یہ نسخہ یا درکھو کہ میرے شکر گزار بنو۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے ﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ (ابراهیم :) یعنی اور جب تمہارے رب نے یہ اعلان کیا کہ اگر شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں ضرور بڑھاؤں گا۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں توفیق دیتا چلا جائے کہ ہم اس کے شکر گزار بنیں اور اس کی نعمتوں سے حصہ پاتے چلے جائیں اور شکر صرف منہ زبانی کا شکر نہیں ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کر کے جو ہمارے شکر کی عملی تصویر ہے وہ سامنے آئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار جگہ ہمیں اس مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے کہ شکر گزار بنو، کہیں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیوں کو معاف کرتا ہے اس بات کو تمہیں شکر گزاری میں بڑھانا چاہئے ، کہیں اپنے فضلوں کی طرف توجہ دلا کر شکر گزار بننے کی طرف توجہ دلائی کہیں تنگیوں کو دور کرنے کی وجہ سے شکر گزاری کی طرف توجہ دلاتا ہے، کہیں فرماتا ہے کہ میں نے تم پر جو تعلیم اتاری ہے اس کی وجہ سے بھی تم شکر گزاری میں بڑھو، کہیں فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں طوفانوں اور تکلیفوں سے آزاد کیا ہے اس پر شکر گزار بندے بنو، میرے انعاموں کی اگر صحیح قدر ہے تو شکر گزار بنو۔غرض کہ مختلف حالات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میرے صحیح عبد بنا چاہتے ہو تو شکر گزار ہوتا کہ مزید فضل بڑھاؤں۔اور اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کیا ہے؟ کہ اس کے عبادت گزار بندے بنیں، اس کے حکموں پر عمل کریں۔جیسا کہ فرماتا ہے بَلِ اللهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِنَ الشَّكِرِين ﴾ (الزمر:67) یعنی بلکہ اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہو جا۔پس شکر گزاری کی جو معراج ہے، یہی ہے کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اس عبادت کے طریقے ہمیں اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ تعلیم اتاری ہے۔آپ کا عمل کیا تھا؟ یہ کہ ساری ساری رات اس مچھلی کی طرح تڑپتے رہتے تھے جو پانی سے باہر ہو۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کر رہے ہیں، اس کی بخشش طلب کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف کر رہے ہیں ، جب پوچھا جاتا ہے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ سب معاف ہو چکے ہیں۔پھر آپ کیوں اتنا تڑپتے ہیں، تو جواب ملتا ہے کہ میں اس انعام پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ:۔