خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 389

389 خطبه جمعه 04 / اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم کلمات کو ادا کر نا کبھی ترک نہ کرنا یعنی اللَّهُمَّ أَعِنِّى عَلَى ذِكْرِكَ وَ شُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ (مسند احمد بن حنبل جلد 7 حدیث معاذ بن جبل حدیث نمبر 22470 صفحه 380 ایک روایت میں مومن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے معاملہ کے بارے میں آپ فرماتے ہیں، یہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے تمام معاملے خیر پر مشتمل ہیں اور یہ مقام صرف مومن کو حاصل ہے کہ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو یہ اس پر شکر بجالاتا ہے، (الحمدللہ پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔تو یہ امر اس کے لئے خیر کا موجب بن جاتا ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ صبر کرتا ہے تو یہ امر بھی اس کے لئے خیر کا موجب بن جاتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الزهد والرقائق باب المومن امره کله خیر حدیث نمبر 7394)۔پس جلسے میں شامل ہونے والے اور کام کرنے والے دونوں اس بات کو یا درکھیں کہ جہاں وہ یہ دعا کر کے اور صبر کر کے اللہ تعالی سے خیر حاصل کر رہے ہوں گے، کوئی خوشی پہنچے تو الحمدللہ پڑھتے ہیں، تکلیف پہنچے تو صبر کرتے ہیں ، آپس میں چھوٹے موٹے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھنا چاہئے اور اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے آپس کے تعلقات میں بھی مضبوط بندھن قائم کر رہے ہوتے ہیں۔تو اس جلسے میں بھی اگر کوئی جیسا کہ میں نے کہا کہ واقعات ہو گئے ہیں تو اسی طرح عمل کرنا چاہئے، یہی رد عمل ظاہر ہونا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو تو فیق دے اور ہر ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پر حکمت باتوں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے ہوئے ہمیشہ ان پر عمل کرنے والا ہوتا کہ یہ باتیں ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہوں اور اس کا شکر گزار بندہ بنانے والی ہوں۔جو آیات میں نے تلاوت کی تھیں ان کا ترجمہ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿فَاذْكُرُوْنِيْ اَذْكُرْتُ وَاشْكُرُوْالِيْ وَلَا تَكْفُرُونِ ﴾ (البقرة : 153) که پس میرا ذکر کیا کرو میں بھی تمہیں یا درکھوں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔پس جب اللہ تعالیٰ اس قدر فضل کرنے والا ہے تو جہاں ہم اس بات کا ہمیشہ شکر کریں کہ اس نے ہمیں توفیق دی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہیں اور اس میں شامل ہو کر ان برکات میں شامل ہو رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اتاری ہیں، اس تعلیم سے حصہ لے رہے ہیں اور لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو آپ پر نازل ہوئیں، وہ پر حکمت اور پر معارف باتیں سیکھ رہے ہیں جس سے عرفان الہی حاصل ہو ، وہاں ہم اس بات پر بھی شکر گزار ہیں کہ ہمیں اس زمانے میں اس بات کی بھی توفیق دی کہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی جس نے در حقیقت ان پر حکمت باتوں کو ہم پر واضح کیا اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے طریقے سکھائے۔دنیا کو یہ باتیں اب صرف اور صرف آخرین کے اس امام کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان حکمت اور عرفان کی باتوں کو سیکھنے کے لئے ہی جلسے کا آغاز