خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 29

خطبات مسرور جلد چهارم 29 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء عادت پر قابو نہ ہوسکا۔الحمد للہ مرزا صاحب کی باطنی توجہ کا یہ اثر ہوا کہ آج قریب ایک برس کا عرصہ ہوتا ہے کہ پھر اس کمبخت کو منہ نہیں لگایا۔(اصحاب احمد۔جلد 14 صفحہ 56) حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو بھی افیون کی عادت تھی انہوں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد افیون کو ترک کر دیا۔گوڈاکٹری نقطہ نظر سے اس کو آہستہ آہستہ چھوڑنا چاہئے کیونکہ اس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔حضرت اقدس آپ سے بوجہ آپ کے علم کے بہت محبت رکھتے تھے۔جب آپ نے افیون ترک کی تو آپ سخت بیمار ہو گئے۔ابھی نقاہت شامل حال ہی تھی کہ مسجد مبارک میں نماز کے لئے تشریف لائے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے آپ کی حالت دیکھ کر فرمایا کہ آپ آہستہ آہستہ چھوڑتے یکدم ایسا کیوں کیا۔شاہ صاحب نے عرض کیا کہ : ” حضور جب ارادہ کر لیا تو یکدم ہی چھوڑ دی۔(اصحاب احمد۔جلد 3 صفحہ 5 ) وہ نظارے یاد کریں جب شراب کی ممانعت کا اعلان ہوا تو مٹکوں کے مٹکے ٹوٹنے لگے۔حضرت مولوی ابراہیم صاحب بقا پوری بیعت سے پہلے قادیان آئے تھے۔کہتے ہیں کہ ” مجھے خیال پیدا ہوا کہ میں نے یہاں کے علماء میں سے ایک بڑے عالم کو دیکھا ہے اور خود مدعی مسیحیت اور مہدویت کی بھی زیارت کی۔اب یہاں کے عام لوگوں کی بھی اخلاقی حالت دیکھنی چاہئے۔چنانچہ اس امتحان کے لئے کہتے ہیں کہ میں لنگر خانے چلا گیا۔اس وقت ابھی انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔”جو اس وقت حضرت خلیفہ اول کے مکان کے جنوبی طرف اور بڑے کنویں کے مشرقی طرف تھا۔لنگر خانے میں ایک چھوٹا سا دیکھہ تھا جس میں دال تھی اور ایک چھوٹی سی دیچی میں شور بہ تھا۔میاں نجم الدین صاحب بھیروی مرحوم اس کے منتظم تھے۔میں نے میاں نجم الدین صاحب سے کھانا مانگا۔انہوں نے مجھ کو روٹی اور دال دی۔میں نے کہا میں دال نہیں لیتا گوشت دو۔میاں نجم الدین صاحب مرحوم نے دال الٹ کر گوشت دے دیا۔لیکن میں نے پھر کہا کہ نہیں نہیں دال ہی رہنے دو۔تب انہوں نے گوشت الٹ کر دال ڈال دی۔دال اور گوشت کے اس ہیر پھیر سے میری غرض یہ تھی کہ تامیں کارکنوں کے اخلاق دیکھوں۔الغرض میں نے بیٹھ کر کھانا کھایا اور وہاں کے مختلف لوگوں سے باتیں کیں منتظمین لنگر کی ہر ایک بات خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلانے والی تھی۔اس سے بھی میرے دل میں گہرا اثر ہوا۔دوسرے دن صبح کو تقریباً تمام کمروں سے قرآن شریف پڑھنے کی آواز آتی تھی۔فجر کی نماز میں میں نے چھوٹے چھوٹے بچوں کو نماز پڑھتے دیکھا اور یہ نظارہ بھی میرے لئے بڑا دلکش اور جاذب نظر تھا۔(رجسٹر روایات نمبر 8 صفحہ 10-11) kh5-030425