خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 30
30 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم تو یہ نظارے قادیان کے اس زمانے کے تھے جو انقلاب لائے جو آج بھی نظر آنے چاہئیں۔حضرت شیخ عبدالرشید صاحب کا ذکر ہے۔مولوی محمد علی صاحب بھوپڑی غیر احمدی یہاں آیا کرتے تھے۔خوش الحان تھے۔ان کے وعظ میں بے شمار عورتیں جایا کرتی تھیں۔کہتے ہیں کہ دو دو تین تین ماہ یہاں رہا کرتے تھے۔اس نے آ کر حضرت کی مخالفت شروع کردی، بد زبانی بھی کرتا تھا۔اس کے ساتھ بھی بحث مباحثہ ہوتا رہا۔شیخ عبدالرشید صاحب واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ میرے والدین نے مجھے جواب دے دیا۔والدہ زیادہ بختی کیا کرتی تھیں۔کیونکہ مولوی بھوپڑی کا بڑا اثر تھا۔والدین نے کہا ہم عاق کر دیں گے۔کئی کئی ماہ مجھے گھر سے باہر رہنا پڑا۔یعنی شیخ عبدالرشید صاحب کو۔کہتے کہ میرے والد صاحب میری والدہ کو کہا کرتے تھے کہ پہلے یہ دین سے بے بہرہ تھا، سویا رہتا تھا، اب نماز پڑھتا ہے، تہجد پڑھتا ہے، اسے میں کس بات پر عاق کروں۔لیکن پھر بھی دنیاوی باتوں کو مدنظر رکھ کر مجھے کہا کرتے تھے کہ مرزائیت چھوڑ دو۔(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 12 صفحہ 29 ) دو اور صحابہ کا ذکر ہے۔قیام نماز کا اہتمام بیعت کرنے کے بعد۔حضرت محمد رحیم الدین صاحب اور کریم الدین صاحب کہتے ہیں جون 1894ء میں جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بیعت کی اس وقت گرمی کے دن تھے۔میری صبح کی نماز قضاء ہو جاتی تھی۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور میں عریضہ لکھا کہ میری صبح کی نماز قضا ہو جاتی ہے میرے واسطے دعا فرماویں۔اس کے جواب میں حضرت صاحب نے لکھا کہ ہم نے دعا کی ہے تم برابر استغفار اور درود کثرت سے پڑھتے رہا کرو۔اس دن سے ہمیشہ وقت پر آنکھ کھل جاتی رہی۔آج تک صبح کی نماز قضا نہیں ہوئی سوائے شاذ و نادر سفر یا بیماری کے وقت کوئی نماز قضا ہو گئی ہو۔یہ استجابت دعا کا نشان ہے اور میرے لئے ایک معجزہ ہے۔الحمد للہ۔(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 6 صفحہ 43) کئی لوگوں سے میں پوچھتارہتا ہوں کہتے ہیں کہ آنکھ نہیں کھلتی وہ اس نسخے کو آزمائیں۔حضرت بدرالدین صاحب کی بیعت کے بعد حالت کا ذکر ہے۔کہتے ہیں کہ یہ خاکسار بہت چھوٹی عمر سے صراط مستقیم کی تلاش میں ٹھوکریں کھاتا ہوا اہل حدیث اور شیعیت سے چل کر آریہ اور دہریہ تالابوں میں غوطے کھا رہا تھا۔قریب تھا کہ بحر ضلالت و گمراہی میں غرق ہو جائے۔پیارے رب اکبر نے جس کی صفت و ثناء تحریر کرنا میری طاقت و لیاقت سے بہت ہی بالا ہے اپنے فضل اور رحم کا ہاتھ بڑھا کر ڈوبتے کو تھام لیا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور لیکھر ام آریہ کا مباہلہ میرے تک پہنچا دیا۔قریباً 1903 ء ہو گا میں نے جس وقت حضرت ابر رحمت کا مضمون پڑھا۔میرے مردہ جسم کے اندر بجلی کی kh5-030425