خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 338
خطبات مسرور جلد چہارم 338 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 حاکم آپ کی دعا کی برکت سے ایک منصف اور عادل کی شکل میں بدل چکا تھا۔چنانچہ اس نے حضرت اقدس کی شائستہ اور متین تحریرات کے مقابل پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ابوالحسن تبتی کے دشنام آلود اشتہارات دیکھے اور وہ ہکا بکا رہ گیا۔اور اس نے پولیس کا بڑی محنت سے بنایا ہوا مقدمہ خارج کر دیا۔اور مسٹر جیم ڈوئی نے مقدمہ خارج کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ گندے الفاظ جومحمد حسین اور اس کے دوستوں نے آپ کی نسبت شائع کئے آپ کو حق تھا کہ عدالت کے ذریعہ سے اپنا انصاف چاہتے اور چارہ جوئی کراتے۔اور وہ حق اب تک قائم ہے۔مسٹر ڈوئی ، عدالت کی کرسی پر بیٹھ کرمحمد حسین بٹالوی کو فہمائش کر رہے تھے کہ آئندہ وہ تکفیر اور بد زبانی سے باز رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: منجملہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کے ایک یہ نشان ہے کہ وہ مقدمہ جومنشی محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ کی رپورٹ کی بنا پر دائر ہو کر عدالت مسٹر ڈوئی صاحب مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ میرے پر چلایا گیا تھا جو فروری 1899 ء کو اس طرح پر فیصلہ ہوا کہ اُس الزام سے مجھے بری کر دیا گیا۔اس مقدمہ کے انجام سے خدا تعالیٰ نے پیش از وقت مجھے بذریعہ الہام خبر دے دی کہ وہ مجھے آخر کار دشمنوں کے بد ارادے سے سلامت اور محفوظ رکھے گا۔اور مخالفوں کی کوششیں ضائع جائیں گی۔سوایسا ہی وقوع میں آیا۔جن لوگوں کو اس مقدمہ کی خبر تھی ان پر پوشیدہ نہیں کہ مخالفوں نے میرے پر الزام قائم کرنے کے لئے کچھ کم کوشش نہیں کی تھی بلکہ مخالف گروہ نے ناخنوں تک زور لگایا تھا“۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ (30) پھر تیسرا مقدمہ کرم دین جہلمی صاحب کے ساتھ تھا۔اس کا بھی ایک لمبا اور تکلیف دہ سلسلہ چلتا رہا۔اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جولائی 1902ء میں اپنی ایک تصنیف نزول امسیح لکھ رہے تھے۔اس دوران مولوی کرم دین ساکن بھیں نے حضرت مسیح موعود اور حضرت حکیم فضل دین صاحب کے نام خطوط لکھے کہ پیر مہرعلی شاہ صاحب گولڑوی کی کتاب سیف چشتیائی ، دراصل مولوی محمد حسین فیضی کا علمی سرقہ ہے۔مولوی کرم دین صاحب نے اس امر کے ثبوت میں حضرت مسیح موعود کو کارڈ بھی ارسال کیا جو پیر صاحب موصوف نے ان کے نام گولڑہ میں بھیجا تھا۔اور جس میں پیر صاحب موصوف نے محمد حسن صاحب فیضی کے نوٹوں کا اپنی کتاب میں درج کرنے کا اعتراف کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کتاب نزول اسیح لکھ رہے تھے۔حضور علیہ السلام کو یہ خط پہنچے جو حضور نے اپنی کتاب میں درج کر دیئے۔اسی طرح ایڈیٹر اخبار الحکم نے اس بنا پر 17 ستمبر کو ایک مضمون شائع کیا جس میں ان خطوط کی نقول درج کر دیں۔جب یہ خط شائع ہو گئے تو مولوی کرم دین صاحب مکر گئے کہ