خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 339 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 339

339 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چہارم میں نے تو یہ نہیں لکھا اور یہ سب خطوط جعلی ہیں۔نیز لکھا کہ مرزا صاحب کی نعوذ باللہ اہلیت کی آزمائش کے لئے میں نے اسے دھو کہ دیا ہے۔اور خلاف واقعہ خطوط لکھے اور لکھوائے اور ایک بچے کے ہاتھ سے نوٹ لکھوا کر محمدحسین فیضی کے نوٹ ظاہر کئے۔اور آگے کہا کہ مرزا صاحب کا تمام کاروبار معاذ اللہ مکر وفریب ہے اور آپ اپنے دعوی میں کذاب اور مفتری ہیں۔تو یہ ساری باتیں تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے باوجود اس حق کے جو ان کو تھا کہ ازالہ حیثیت عرفی کے لئے عدالت سے رجوع کر سکتے تھے، آپ نے نہ کیا کہ مولوی کرم دین صاحب خود ہی اس کی تردید کر دیں گے۔لیکن تین مہینے گزر جانے کے با وجود جب مولوی صاحب نے تردید نہ کی تو اس پر حکیم فضل دین صاحب نے جو مینیجر ضیاء الاسلام پریس قادیان تھے اور مولوی کرم دین صاحب نے ان کے نام پہلے خطوط لکھے تھے، اس کے علاوہ اور بھی کچھ لوگ تھے ، انہوں نے مولوی کرم دین پر استغاثہ دائر کر دیا۔اور اس دوران میں جب عدالت کی کارروائی ہو رہی تھی مولوی کرم دین صاحب نے زیر طبع کتاب نزول امسیح کے اوراق پیش کئے اور مستغیث (جس نے استغاثہ کیا تھا) حکیم فضل دین صاحب سے تصدیق کرانا چاہی۔حکیم فضل دین صاحب نے اس بات پر مولوی کرم دین پر ایک اور استغاثہ کر دیا کہ کیونکہ میں پریس کا مینیجر ہوں اور یہ کتاب ابھی چھپی نہیں ، اس لئے میری ملکیت تھی اس نے یہ کاغذات بھی چوری کئے ہیں۔اور اسی طرح شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کے خلاف بھی مولوی صاحب نے زہر اگلا تھا اس لئے شیخ صاحب نے بھی مولوی کرم دین کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ کر دیا تو اس طرح کئی استغاثے اکٹھے ہو گئے۔ان استغاثوں کے جواب میں مولوی کرم دین صاحب نے اسٹنٹ کمشنر جہلم کے پاس عدالت میں ایک مقدمہ کر دیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عبداللہ صاحب کشمیری اور شیخ یعقوب علی صاحب تراب کے نام ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ دائر کر دیا کہ میرے بہنوئی مولوی محمد حسن فیضی کی سخت توہین کی گئی ہے۔اس مقدمہ پر حضور علیہ السلام اور دوسرے رفقاء کے نام وارنٹ جاری ہو گئے اور عدالت میں پیشی کی تاریخ پڑ گئی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مقدمہ دائر ہونے کی خبر پر مخالف اخبارات نے بڑی خوشی کا اظہار کیا۔چنانچہ لاہور کے اخبار پنجاب سما چار نے لکھا کہ مرزا قادیانی صاحب پر نالش ہے۔اس کا طرز تحریر بھی جہاں تک پڑھا ہے ملک کے لئے کسی طرح مفید نہیں بلکہ بہت دلوں کو دکھانے والا ہے۔اگر عدالت نالش کو سچا سمجھے تو مناسب ہے کہ سزا عبرت انگیز دیوے تا کہ ملک ایسے شخصوں سے جس قدر پاک رہے ملک اور گورنمنٹ کے لئے مفید ہے۔( تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 260 تا 263 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) تو یہ تو تھا دشمنوں کا حال۔پھر اس نے ازالہ حیثیت عرفی کا جو استغاثہ کیا تھا یہ مقدمہ مواهب الرحمن کے صفحہ 129 کے الفاظ کی بنا پر تھا جس میں ان کے لئے کذاب لعین اور بہتان عظیم کے الفاظ استعمال