خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 337

337 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چہارم صرف یہی بلکہ اس کے دودھ کی بھی امید ہے۔قدرت کی باتیں ہیں کہ کیا تھا اور کیا ہو گیا۔میں سجدہ میں ہی تھا کہ آنکھ کھل گئی۔قریباً اُس وقت رات کے چار بج چکے تھے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔فرمایا کہ میں نے اسکی تعبیر یہ کی کہ وہ ظالم طبع مخالف جو میرے پر خلاف واقعہ اور سراسر جھوٹ باتیں بنا کر گورنمنٹ تک پہنچاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہونگے۔اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خواب میں ایک پتھر کو بھینس بنا دیا اور اس کو لمبی اور روشن آنکھیں عطا کیں اسی طرح انجام کار وہ میری نسبت حکام کو بصیرت اور بینائی عطا کرے گا اور وہ اصل حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔یہ خدا کے کام ہیں اور لوگوں کی نظر میں عجیب“۔اور الہامات جو اس خواب کے موید ہیں یہ ہیں : إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُحْسِنُوْنَ أَنْتَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَأَنْتَ مَعِيَ يَا إِبْرَاهِيمُ۔يَأْتِيْكَ نُصْرَتِي إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ۔يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَ كِ۔غِيْضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ۔سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَّبِّ رَّحِيْمِ۔وَاَمْتَازُوْا الْيَوْمُ أَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ إِنَّا تَجَالَدْنَا فَانْقَطَعَ الْعَدُوُّ وَاسْبَابُهُ۔وَيْلٌ لَّهُمْ أَنَّى يُؤْفَكُوْنَ۔يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ وَيُوْثَقُ وَ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْابْرَارِ۔وَإِنَّهُ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرِ۔شَاهَتِ الْوُجُوْهُ۔إِنَّهُ مِنْ آيَةِ اللهِ وَإِنَّهُ فَتْحٌ عَظِيمٌ۔اَنْتَ اسْمِيَ الأعْلَى وَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ مَحْبُوبِيْنُ۔اِخْتَرْتُكَ لِنَفْسِي قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ۔یعنی خدا پر ہیز گاروں کے ساتھ ہے اور تو پر ہیز گاروں کے ساتھ ہے۔اور تو میرے ساتھ ہے اے ابراہیم۔میری مدد تجھے پہنچے گی۔میں رحمن ہوں۔اے زمین! اپنے پانی کو یعنی خلاف واقعہ اور فتنہ انگیز شکایتوں کو جو زمین پر پھیلائی گئی ہیں نگل جا۔پانی خشک ہوگیا اور بات کا فیصلہ ہوا۔تجھے سلامتی ہے یہ رب رحیم نے فرمایا۔اور اسے ظالمو! آج تم الگ ہو جاؤ۔ہم نے دشمن کو مغلوب کیا اور اس کے تمام اسباب کاٹ دیئے۔ان پر واویلا ہے کیسے افتراء کرتے ہیں۔ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور اپنی شرارتوں سے روکا جائے گا۔اور خدا نیکوں کے ساتھ ہو گا۔وہ ان کی مدد پر قادر ہے۔منہ بگڑیں گے۔خدا کا یہ نشان ہے اور یہ فتح عظیم ہے۔تو میرا وہ اسم ہے جو سب سے بڑا ہے۔اور تو محبوبین کے مقام پر ہے میں نے تجھے اپنے لئے چنا۔کہہ میں مامور ہوں اور تمام مومنوں میں سے پہلا ہوں“۔حقیقت المہدی۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 443-446) ( مسجد میں الارم بجنے پر حضور انور نے استفسار فرمایا کہ یہ کیا ہے، بتایا گیا کہ فائر کا الارم ہے فرمایا فائر کہاں ہو گی؟۔یہ الارم کسی وجہ سے بجا ہے دیکھیں چیک کروائیں۔الارم صرف بند نہ کر دیں بلکہ سارے پھر کے چیک بھی کرلیں ) اس دن حضرت اقدس اپنے احباب کے ساتھ کثیر تعداد میں گورداسپور میں فیصلہ سننے کے لئے تشریف لے گئے۔مولوی محمد حسین صاحب بھی خوش تھے کہ آج ہمارا حریف عدالت کے کٹہرے میں مجرم قرار پائے گا۔اور انہیں فتح عظیم حاصل ہوگی۔مگر جیسا کہ آپ کو قبل از وقت بتایا گیا تھا اب وہ پتھر دل