خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 297 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 297

297 خطبہ جمعہ 16 جون 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم طرف سے بھی ہر سال دس ہزار یورو کا وعدہ آتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ ان کی جائیداد میں برکت ڈالے۔بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مساجد کی تعمیر کے لئے جور تم جمع ہوئی۔( شروع میں جماعت نے بہت قربانی دی تھی ) اس سے بعض سنٹر خریدے گئے۔ان میں بیت السبوح بھی شامل ہے جن پر بڑی رقم خرچ ہوگئی۔ان کی بجائے پہلے مساجد بنانی چاہئے تھیں۔تو اس بارے میں پہلے بھی میں ایک دفعہ مختصراً کہہ چکا ہوں کہ جو کام خلیفہ وقت کی اجازت سے ہوئے ہوں ان پر زیادہ اظہار خیال نہیں کرنا چاہئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی اجازت سے ہی بیت السبوح خریدی گئی تھی اور بعض دوسری عمارتیں اور جگہیں بھی خریدی گئی تھیں۔پھر بعض علاقے کے احمدیوں کو بعض جماعتوں کو ایک اور فکر ہے کہ انہوں نے یعنی وہاں کی مقامی جماعت نے اپنے وعدے کے مطابق ایک مسجد کی تعمیر کے لئے جتنی رقم کی ضرورت ہوتی ہے اتنی ادا ئیگی کر دی ہے اور وہاں مسجد میں نہیں بنیں۔اب ان کو مزید نہیں کہنا چاہئے۔اُن کے خیال میں وہ رقوم جو انہوں نے دیں وہ دوسری مساجد میں خرچ ہو گئیں۔تو یا درکھیں جماعتوں کا ، یا جن کا بھی یہ خیال ہے ان کا کام تھا کہ اپنی جگہ پر پلاٹ تلاش کرتے۔اب میں نے مسجد کی تعمیر کے لئے ایک نئی کمیٹی تشکیل دی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ تعمیر کے سلسلہ میں امید ہے کہ بہتری ہوگی۔لیکن اگر ایسی جماعتوں میں جہاں ابھی تک مسجد تعمیر نہیں ہوئی اور مسجد کی تعمیر کے برابر جتنی ان کو ضرورت پڑ سکتی ہے وہ رقم ادا کر چکے ہیں تو ان کو چاہئے کہ جگہ تلاش کریں۔جب بھی جگہ ملے گی ، پلاٹ ملے گا ان کو رقم انشاء اللہ مہیا ہو جائے گی۔پھر مسجد کی تعمیر کی اجازت لیں تو تعمیر کے لئے بھی انشاء اللہ رقم مہیا ہو جائے گی۔لیکن یہ کام کرنا کہ پلاٹ بھی لینا اور اس پر تعمیر کی اجازت بھی لینا آپ لوگوں کا کام ہے۔اگر جماعت جرمنی نے اور دوسرے پراجیکٹ یعنی مسجدوں کے اور پراجیکٹ شروع کر دیئے ہیں اور رقم وہاں لگ گئی ہے۔اور آپ کا ، ایسی جماعت کا نمبر اس وجہ سے پیچھے چلا گیا ہے تو وہ فکر نہ کریں، مجھے بتائیں۔ایسی جماعتیں جو اتنی رقم جمع کر چکی ہیں کہ جس سے مسجد بن سکے اور جو ہمارا کم از کم اندازہ ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی جماعت میں مسجد کا کام اس رقم کی وجہ سے نہیں رکے گا۔چاہے مسجد کا چھٹا نمبر ہو یا ساتواں نمبر ہو یا آٹھواں نمبر ہو۔چاہے پانچ مسجدیں بن رہی ہوں۔لیکن اگر مالی استطاعت ہے تو یہ کہہ کر کہ ہم اتنی رقم ادا کر چکے ہیں کہ اس سے ایک مسجد بن جائے اس لئے اب ہماری جماعت مزید ادائیگی نہیں کرے گی ، یہ غلط طریق کار ہے۔اپنے ہاتھ روکنے نہیں چاہئیں بلکہ جو کمزور جماعتیں ہیں ان کی مدد کے لئے مسجد کے فنڈ میں ادا ئیگی کرتے رہیں اور کرتے رہنا چاہئے۔حدیث آپ نے سن لی ہے کہ مسجد بنانے والا جنت میں اپنا گھر بناتا ہے۔تو جنت میں جتنے بھی گھر بن جائیں۔اتنا ہی زیادہ بخشش کا سامان ہو رہا ہوگا۔kh5-030425