خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 296

296 خطبہ جمعہ 16 جون 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم میرا خیال ہے پانچ لاکھ یورو کا وعدہ کیا تھا۔اور لجنہ نے بھی پانچ لاکھ کا۔میرے پاس ان کی رپورٹ تو نہیں ہے۔لیکن مجھے امید ہے کہ جو بھی انہوں نے وعدہ کیا تھا یہ بھی پورا کر چکے ہوں گے یا کرنے کے قریب ہوں گے۔یہ تو مجموعی حالت ہے۔لیکن بعض جماعتیں اور مجالس ایسی ہیں جوست ہیں۔وہ اپنے جائزے لیں کہ کہاں کہاں کیا کمزوریاں ہیں، کہاں کمیاں ہیں، کہاں نفس کے بہانے ہیں، کہاں بے تو جہگی ہے مجھے امید ہے کہ اگر ان کمزوروں کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کی جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ذیلی تنظیموں میں میرے خیال میں انصار اللہ میں ابھی گنجائش موجود ہے ان کو کوشش کرنی چاہئے۔تو بہر حال جیسے کہ میں نے پہلے کہا تھا اس تاثر کو اب ختم کر دیں کہ توجہ میں اس لئے دلا رہا ہوں اور ٹارگٹ میں کمی میں نے اس لئے کی ہے کہ کوئی ناراضگی تھی، یہ تاثر ختم ہونا چاہئے۔اور جن کے خیال میں اگر ناراضگی تھی ( اول تو تھی نہیں) مگر جن کے خیال میں تھی تو ان کو بجائے باتیں بنانے کے اور اعتراض کرنے کے پہلے سے بڑھ کر کوشش کرنی چاہئے۔اور ایسے لوگوں کو بھی میری یہ نصیحت ہے کہ بلا وجہ خود ہی نتیجے اخذ نہ کر لیا کریں اس سے بعض دفعہ بعض قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔اس ضمن میں یہ بھی بتادوں کہ 1997ء میں جب حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے دوبارہ توجہ دلائی تھی تو اس پر ایک تو بعض مرکزی اداروں نے وعدے کئے تھے۔وہ وعدے جن اداروں نے پورے کر دیئے تھے ان کی ادائیگی وکالت مال کے ذریعہ سے جماعت جرمنی کو کر دی گئی تھی۔اور جن کے وعدے پورے نہیں ہوئے تھے یا ابھی تک نہیں ہوئے وہ میں نے وکالت مال کو کہا ہے کہ جائزہ لے کر وصولی کی کوشش کریں۔اسی طرح حضرت خلیفتہ اسیح الرابع کی خدمت میں بعض لوگوں نے انفرادی طور پر بھی بعض وعدے کئے تھے، جو جرمنی سے باہر کے تھے۔وہ بھی امید ہے وصول ہو چکے ہوں گے۔جو نہیں ہوئے ان کے لئے میں نے کہا ہے کوشش کریں تا کہ اس سلسلہ میں کچھ نہ کچھ مدد ہو جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع " نے 1997ء میں ہی یہ بھی اعلان فرمایا تھا کہ حضرت سیدہ مہر آپا مرحومہ ( جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی نہ کی بیگم تھیں ) کی طرف سے مساجد کے لئے وعدہ ادا ہو گا۔کیونکہ حضرت سیدہ مہر آپا نے اپنی جو ساری جائیداد تھی وہ جماعت کے نام کر دی تھی تو حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے فرمایا تھا کہ جو بھی اس کی آمد ہوگی اس میں سے ہر سال کچھ نہ کچھ ادا ئیگی ہوتی رہے گی۔( کوئی معین وعدہ کیا تھا جو اس وقت میرے ذہن میں نہیں )۔اور وہ ادا ئیگی بہر حال ہوتی رہی ہے۔اگر کوئی پچھلے سالوں کا بقایا ہے تو وہ ادا ہو جائے گا۔لیکن کیونکہ اور جگہوں پر بھی خرچ ہوتا ہے تو آئندہ بھی اس مقصد کے لئے ان کی جو گنجائش نکل سکتی ہے اسے دیکھ لیں گے۔امید ہے کہ جب تک آپ مسجدیں بنا نہیں لیتے ، انکی kh5-030425