خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 298

خطبات مسرور جلد چهارم 298 خطبہ جمعہ 16 جون 2006 ء پس آپ اس لحاظ سے بے فکر رہیں کہ ہماری طرف پوری طرح توجہ نہیں دی جا رہی۔اگر مقامی جماعت اور مرکزی کمیٹی جگہ پسند کرتے ہیں۔تو جرمنی کی جماعت کے پاس اگر فوری طور پر رقم میسر نہیں بھی ہو گی تب بھی اس کا انتظام ہو جائے گا۔انشاء اللہ۔آپ پلاٹ خریدنے والے بنیں۔پس آپ لوگ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے آزاد ہو کر اللہ کی خاطر مسجدوں کی تعمیر کی طرف توجہ دیتے چلے جائیں اور دیتے چلے جانے والے بنتے رہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اس سے آپ کی تبلیغ کے راستے کھلیں گے۔دوسری اہم چیز یہی ہے کہ تبلیغ کی طرف کوشش ہو۔اس کے لئے اپنی حالتوں کو درست کرنے کے بعد، اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کے بعد، اپنی مسجدوں کو پیار و محبت کا نشان بنانے کے بعد، جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید کے پیغام کے ساتھ پیارو محبت کا پیغام ہر طرف پھیلانے کا نعرہ بلند ہو، احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کو اپنے علاقے کے ہر شخص تک پہنچا دیں۔یہی پیغام ہے جواللہ تعالی کی پسند ہے۔اور یہی پیغام ہے جس سے دنیا کا امن اور سکون وابستہ ہے۔یہی پیغام ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہونا ہے۔آج روئے زمین پر اس خوبصورت پیغام کے علاوہ کوئی پیغام نہیں جو دنیا کو امن اور محبت کا گہوارہ بنا سکے اور بندے کو خدا کے حضور جھکنے والا بنا سکے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔کہ ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ) (حم السجدة :34) - یعنی اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے اور کہے کہ میں یقیناً کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔پس یہ کامل فرمانبرداری جس کی ہر احمدی سے توقع کی جاتی ہے اس وقت ہوگی جب نیک ، صالح عمل ہو رہے ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی ہو رہی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں گے اور پھر ایسے لوگ جب دعوت الی اللہ کرتے ہیں تو ان کی سچائی کی وجہ سے لوگ بھی ان کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔اور ان نیک کاموں کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے بھی منظور نظر ہو جاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی مدد بھی فرماتا ہے۔تبلیغی میدان میں ان کی روکیں دور ہو جاتی ہیں۔وہی مخالفین جو مساجد کی تعمیر میں روکیں ڈال رہے ہوتے ہیں وہی جو مسلمانوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، وہی جو برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے علاقے میں مسلمان عبادت کی غرض سے جمع ہوں جب آپ کے عمل دیکھیں گے، آپ کی عبادتیں دیکھیں گے، آپ کی پیشانیوں پر ان لوگوں کو نشان نظر آئیں گے جن سے مومن کی پہچان ہوتی ہے۔ایسے ظاہری نشان نہیں جیسے آجکل دکھاوے کے لئے لگا لئے جاتے ہیں۔مجھے کسی نے بتایا کہ کراچی میں وہ جائے نماز خرید نے کے لئے گیا تو جس دکاندار سے جائے نماز خریدی اُس نے چند پڑیاں بھی لاکر دیں۔انہوں نے کہا یہ کیا kh5-030425