خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 272

272 خطبہ جمعہ 02 جون 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ - ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا۔جولوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں یہ خدا کا ہاتھ ہے ان کے ہاتھ پر۔یہ الہام ہوا جو قرآنی آیات ہیں۔اس پر آپ نے کشتی نوح تحریر فرمائی اور اس میں اپنی تعلیم بیان فرمائی کہ جو اس پر ایمان لائیں اور عمل کریں وہ محفوظ رہیں گے۔اسی طرح آپ نے فرمایا جو آپ کا گھر ہے جو بظاہر اینٹوں اور گارے کا گھر ہے، جو اس دار میں پناہ لے گا وہ محفوظ رہے گا۔تو یہ آپ سے اللہ تعالیٰ کا مددکا وعدہ تھا۔اور جب و با پھوٹی تو ایک دنیا نے دیکھا کہ احمدی محفوظ رہے اور بڑی شان سے یہ وعدہ اور یہ الہام پورا ہوا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اور بھی بے شمار الہامات ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اسی تائید و نصرت کے سلسلے میں بعض واقعات بھی ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا میں اس وقت یہاں صرف مختلف واقعات کے بارے میں قرآن کریم کی آیات پیش کر رہا ہوں۔انشاء اللہ باقی باتیں آئندہ بھی ہوں گی۔پھر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ ہے۔جب مخالفین نے آپ کو آگ میں جلانے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی کس طرح مدد فرمائی اور مخالفین کی تمام تدبیریں ناکام و نامراد ہو گئیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَالُوْا حَرِقُوْهُ وَانْصُرُوا الهَتَكُمْ إِنْ كُنتُمْ فَعِلِيْن قُلْنَا يَنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَسَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيْمَ وَاَرَادُوْا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَهُمُ الْاخْسَرِيْنَ ﴾ (الانبیاء: 69-71) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا اس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کر وا گر تم کچھ کرنے والے ہو۔ہم نے کہا اے آگ ! تو ٹھنڈی پڑ جا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر۔اور انہوں نے اس سے ایک چال چلنے کا ارادہ کیا تو ہم نے ان کو کلیہ نا مراد کر دیا۔پھر حضرت موسی کے بارے میں آتا ہے کہ وَلَقَدْ مَنَنا عَلَى مُوْسَى وَهَرُوْنَ۔وَنَجَّيْنَهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ۔وَنَصَرْنَهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْعَلِمِينَ ﴾ (الصفت : 115-117) اس کا ترجمہ یہ ہے۔اور یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی احسان کیا تھا اور اُن دونوں کو اور اُن کی قوم کو ہم نے بہت بڑے کرب سے نجات بخشی تھی اور ہم نے ان کی مدد کی۔پس وہی غالب آنے والے بنے۔دیکھیں فرعون کے مقابلے پر کس طرح موسیٰ کو غلبہ عطا فرمایا تھا۔اس کی تفصیل میں جانے کے لئے تو وقت نہیں ہے۔ویسے بھی یہ ایک علیحدہ مضمون ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی نصرت کے ایسے نظارے نظر آتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔یہاں میں اس وقت یہ کہتا ہوں کہ آج مسلمان جو نعرے لگاتے ہیں کہ فلاں فرعون ہے اور فلاں kh5-030425