خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 243
خطبات مسرور جلد چہارم 243 خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دلآزاری اور قطع رحم و غیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا۔وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مردوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی۔بہتیرے اُن میں سے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔بہتیرے اُن میں ایسے ہیں جن کو سچی خوا ہیں آتی ہیں اور الہام الہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ان میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یادرکھتے اور دلوں کے نرم اور کچی تقویٰ پر قدم ماررہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر رہا ہے۔اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے ان کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، جیسا کہ صحاب کو کھینچتا تھا۔غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو اخرین منهم کے لفظ سے مفہوم ہورہی ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا“۔ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 306-307) پس یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا یہ ہمیں آج دنیائے احمدیت کی ہر قوم میں نظر آتا ہے۔میں انڈونیشینز کا ذکر کر رہا تھا ، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا انکے سینوں کو اللہ تعالیٰ ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور ہر جگہ یہی نظارے دیکھنے میں آئے۔میں سنگا پور کے خطبے کا ذکر کر رہا تھا، اس خطبے کے بعد یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے تھے اور اس بات پر قائم تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی حالت بدلے گا اور وہ مزید تائیدات کے نظارے دیکھیں گے، انشاء اللہ۔سنگا پور میں ملائیشیا اور انڈونیشیا کے علاوہ ، جن کی بڑی تعداد وہاں آئی ہوئی تھی بعض دوسرے ملکوں کے بھی چند لوگ آئے تھے۔فلپائن، کمبوڈیا، پاپوانیوگنی ، تھائی لینڈ۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب اخلاص و وفا کے نمونے دکھانے والے تھے۔بعض چند سال پہلے کے احمدی تھے، مرد بھی اور خواتین بھی لیکن خلافت سے تعلق اور وفا کے جو اظہار تھے وہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔وہاں آنے کے لئے ان کو کافی خرچ کرنا پڑا، کافی دور کے بھی علاقے ہیں۔کرایہ خرچ کر کے آئے تھے۔ٹکٹ کافی مہنگا ہے۔ان کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان الفاظ کی سچائی ثابت ہوتی ہے کہ وہ خدا کا گروہ ہیں جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان دور دراز کے ملکوں کے لوگوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق ہیں ایسا تعلق پیدا کر دیا ہے کہ دیکھ kh5-030425