خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 242

242 خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم بہر حال پہلے میں سنگا پور کے بارے میں مختصر بتا دوں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ سنگا پور کی جماعت ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔چند ایک پاکستانی گھروں کے علاوہ تمام مقامی احمدی ہیں اور جس طرح سے انہوں نے اپنے کام کو سنبھالا ہوا ہے ان کے جماعت اور خلافت سے اخلاص و وفا کا جو تعلق ظاہر ہوتا ہے وہ ہر ایک کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی دلیل نظر آتا ہے۔وہاں اس ملک میں انہوں نے ایک خوبصورت چھوٹی سی مسجد بنائی ہوئی ہے، چھوٹی تو نہیں خیر ، ہمارے اس لحاظ ( مسجد بیت الفتوح) سے چھوٹی ہے لیکن کافی بڑی مسجد ہے، دو منزلہ ہے اس میں دفاتر بھی ہیں، لائبریری وغیرہ بھی ہے۔جب حضرت خلیفہ ایسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ وہاں گئے تھے تو آپ نے اس کا افتتاح فرمایا تھا۔اب وہاں اسی پلاٹ میں جگہ تھی جہاں میں مشن ہاؤس کا سنگ بنیا درکھ کے آیا ہوں۔ملائشیا کا تو میں نے ذکر کیا ہے کہ بعض پابندیاں ہیں اور مخالفت ہے جس کی وجہ سے وہاں کی خاصی تعداد ملاقات کے لئے سنگا پور آ گئی تھی ، ان کی عاملہ بھی آگئی تھی ، ان سے بھی میٹنگ وغیرہ ہوتی رہی۔انڈونیشیا میں بھی آجکل جو حالات ہیں جیسا کہ آپ سب کو علم ہے کہ جماعت کی مخالفت زوروں پر ہے اور فی الوقت وہاں جانا بھی مشکل ہے۔وہاں سے بھی کافی تعداد میں انڈو نیشین احمدی آئے ہوئے تھے اور اس بات پر ان کی بھی جذباتی کیفیت ہو جاتی تھی کہ آپ فی الحال وہاں دورہ نہیں کر سکتے۔انڈو میشین طبعا جذباتی بھی ہیں لیکن اخلاص و وفا میں بہت بڑھے ہوئے بھی ہیں۔جب میں نے خطبے میں ان کے موجودہ حالات کا ذکر کیا اور صبر کی تلقین کی تو بلا استثناء ہر ایک جوان، بوڑھا ، مرد، عورت سخت جذباتی ہو گئے تھے ، اس کا نظارہ آپ نے شاید ایم ٹی اے پر کچھ حد تک دیکھا ہوگا، ایم ٹی اے کا کیمرہ پوری طرح ہر چیز کی تصویر نہیں لے سکتا۔میں عموماً اپنے جذبات پر کنٹرول رکھتا ہوں لیکن میرے سامنے جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان کی حالت دیکھ کر بڑی مشکل سے اپنے پر قابو پا رہا تھا۔یہ نظارے ہمیں آج صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیاری جماعت میں نظر آتے ہیں جو دینی تعلق اور اخوت کی وجہ سے ایک دوسرے سے اس حد تک منسلک ہیں کہ جذبات پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ سب آج مسیح محمدی کی قوت قدسی کا اثر ہے جو اس نے اپنے آقاو مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے پائی ہے کہ ہر ملک میں مختلف قومیتوں اور قبیلوں سے تعلق رکھنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے بعد خلافت سے کچی وفا کا تعلق رکھنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا ؟ اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا۔وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔kh5-030425