خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 244
خطبات مسرور جلد چہارم کر حیرت ہوتی ہے۔244 خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء بہر حال جیسا کہ میں نے کہا گو کہ سنگا پور میں جلسہ نہیں ہوا ان ملکوں کے آنے والوں سے ملاقاتیں اور جماعت کی ترقی کے لئے آئندہ پروگرام بنانے اور ان کے جائزے لینے کے لئے جو میٹنگز ہوئیں ان سے مجھے بھی براہ راست معلومات لے کر آئندہ پروگرام بنانے کی طرف ان کی رہنمائی کا موقع ملا اور ان کو بھی نظام کو صیح سمجھنے اور کام کو آگے چلانے کا علم ہوا۔کیونکہ بعض بالکل نئی جماعتیں ہیں، اور بہت سی باتوں سے لاعلم تھیں۔بہر حال الحمد للہ کہ سنگا پور جانا بڑا فائدہ مند ثابت ہوا۔جانے سے پہلے تو میرا خیال تھا کہ وہاں چھوٹی سی جماعت ہے، دو دن کافی ہیں۔لیکن ان باہر سے آئے ہوئے نمائندگان کی وجہ سے اچھا مصروف وقت گزر گیا۔سنگاپور کے تعلق میں یہ بھی بتادوں کہ وہاں تبلیغ کی کھلے عام اجازت نہیں ہے ، ہاں دکانوں پر لٹریچر یا کتابوں وغیرہ کو رکھ کر بیچا جا سکتا ہے۔اور اس اجازت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیوں کی تبلیغ پر وہاں مسلمانوں نے بہت شور مچایا اور ہنگامہ کھڑا کر دیا تو حکومت نے ہر مذہب کی تبلیغ پر پابندی لگادی اور صرف اپنا لٹریچر بیچنے کی اجازت دی۔دوسرے مسلمانوں کو تو فرق نہیں پڑتا ، نہ ان کے پاس اسلام کا حقیقی علم ہے اور نہ ہی ان کو تبلیغ سے کوئی دلچسپی ہے۔اس کا اثر صرف جماعت پر پڑا، اس کی تبلیغ میں روک پیدا ہوئی۔کاش مسلمان یہ سمجھ جائیں کہ آج اگر دلائل اور براہین سے کسی بھی دوسرے مذہب پر اسلام کی فوقیت ثابت کرنی ہے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی پیروی میں ہی ہوسکتی ہے۔کیونکہ آپ نے ہی اس زمانے میں اللہ تعالیٰ سے براہ راست رہنمائی حاصل کر کے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کیونکہ آپ کے ذریعہ سے ہی ہم وہ مقام حاصل کر سکتے ہیں جو صحابہ سے ملانے والا ہو۔کاش مسلمان اس حقیقت کو سمجھ جائیں اور آج دنیا میں تمام دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے کے لئے آپ کے غلام کی مخالفت کی بجائے تائید کرنے والے ہوں۔اس ضمن میں یہ ذکر کر دوں، پہلے بھی ایک دفعہ بتا چکا ہوں کہ اب عرب دنیا میں عیسائیت کے مقابلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔اور سنا ہے مختلف حکومتوں نے یہ پابندی لگائی ہے کہ عیسائیت کے جو بھی وہاں حملے ہور ہے ہیں ان کا جواب نہیں دینا۔یہ کیونکہ جواب دے نہیں سکتے اور ان کے پاس دلیل کوئی نہیں۔اس لئے بہتر ہے کہ جواب نہ دو۔ہمارے عرب احمدی بھائیوں نے جن میں مصطفیٰ ثابت صاحب ہیں اور دوسرے عرب احمدی جو اچھے پڑھے لکھے ہیں، علم رکھنے والے ہیں ،انہوں نے یہاں MTA سے خاص طور پر عیسائیت کے اس حملے کے رڈ میں جو کہ آجکل عرب دنیا پہ بہت زیادہ ہو رہا ہے بعض عربی kh5-030425