خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 175
خطبات مسرور جلد چهارم 175 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 2006 ء غیر موصی دوسرے چندے شامل کر کے موصیان سے زیادہ قربانی کر رہے ہوں۔تو اس لحاظ سے واضح کر دوں کہ کوئی بھی چندہ دینے والا، چاہے وہ موصی ہیں یا غیر موصی ہیں اگر توفیق ہے تو تمام تحریکات میں چندے دینے چاہئیں کیونکہ ہر تحریک اپنی اپنی ضرورت کے لحاظ سے بڑی اہم ہے۔پھر ایک چیز یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے کہا کہ اصل مقصد چندوں کا اللہ تعالیٰ کا قرب پانا ہے، نہ کہ پیسے اکٹھے کرنا۔اس لئے بالکل صحیح طریق سے بغیر کسی چیز کو، اپنی آمد کو چھپائے بغیر، اپنے بجٹ بنوانے چاہئیں جو کہ سال کے شروع میں جماعتوں میں بنتے ہیں۔اور بجٹ بہر حال صحیح آمد پہ بننا چاہئے۔اس کے بعد اگر توفیق نہیں تو چندوں کی چھوٹ لی جاسکتی ہے۔پھر ایک اور بات ہے جس کی طرف میں عرصے سے توجہ دلا رہا ہوں کہ نومبائعین کو مالی نظام میں شامل کریں۔یہ جماعتوں کے عہدیداروں کا کام ہے۔جب نو مبائعین مالی نظام میں شامل ہو جائیں گے تو جماعتوں کے یہ شکوے بھی دور ہو جائیں گے کہ نو مبائعین سے ہمارے رابطے نہیں رہے۔یہ رابطے پھر ہمیشہ قائم رہنے والے رابطے بن جائیں گے اور یہ چیز ان کے تربیت اور ان کے تقویٰ کے معیار بھی اونچے کرنے والی ہو گی۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ قرآن کریم میں مالی قربانیوں کے بارے میں بے شمار ہدایات ہیں۔تو اللہ تعالیٰ جو بھی فضل فرماتا ہے ان کو اس میں بھی شامل کرنا چاہئے۔پھر زکوۃ کی ادائیگی کے بارے میں بعض سوال ہوتے ہیں۔یہ بنیادی حکم ہے۔جن پر ز کوۃ واجب ہے ان کو ضرور ادا کرنی چاہئے اور اس میں بھی کافی گنجائش ہے۔بعض لوگوں کی رقمیں کئی کئی سال بنکوں میں پڑی رہتی ہیں اور ایک سال کے بعد بھی اگر رقم جمع ہے تو اس پر بھی زکوۃ دینی چاہئے۔پھر عورتوں کے زیورات ہیں ان پر زکوۃ دینی چاہئے۔جو کم از کم شرح ہے اس کے مطابق ان زیورات پر زکوۃ ہونی چاہئے۔پھر بعض زمینداروں پر ز کوۃ واجب ہوتی ہے ان کو اپنی زکوۃ ادا کر نی چاہئے۔تو یہ ایک بنیادی حکم ہے اس پر بہر حال توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس مالی قربانی کے ضمن میں ایک دعا کی بھی درخواست کرنی چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے ایک دفعہ اعلان کیا تھا بلکہ شاید دو دفعہ کر چکا ہوں، کہ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ جور بوہ میں بن رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عل سے بڑی خوبصورت عمارت ہے اور بڑا اعلیٰ اور معیاری انسٹیٹیوٹ بن رہا ہے ، دل کی بیماریوں کے لئے۔اس کے لئے میں نے دنیا کے ڈاکٹروں کو تحریک کی تھی کہ وہ اس میں خاص طور پر حصہ لیں اور قربانیاں کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے امریکہ کے ڈاکٹر ز نے اس کے خرچ کی بہت بڑی ذمہ داری اپنے اوپر لی ہے۔تقریباً ایکو پیمنٹ (Equipment) وغیرہ کا سارا خرچ وہی ادا کریں گے اور یہ بہت بڑا خرچ kh5-030425