خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 153

خطبات مسرور جلد چهارم 153 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006 ء حکومتوں میں جوڑ توڑ کے ذریعے سے۔اور بدقسمتی سے مسلمان حکومتیں بڑی جلدی اس جوڑ تو ڑ میں شامل ہو جاتی ہیں۔پھر جو نہ مانے پھر طاقت کے ذریعے سے حملہ ہوتا ہے۔اور اب جیسا کہ میں نے بتایا انہوں نے یہ نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔دوبارہ عیسائیت کی تعلیم کے ذریعہ سے بڑی تیزی سے اسلام پر حملے کا یہ طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے کہ عیسائیت کی خوبیاں بیان کرو اور مسلمانوں میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرو۔ان کو پتہ ہے کہ عیسائیت کی خوبیاں بیان کریں گے تو یہ اس کا جواب دے نہیں سکتے ، کیونکہ آج اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے علاوہ کسی کے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔اور اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے پروگرام بڑے کامیاب چل رہے ہیں۔ان لوگوں کی تو سوچنے کی صلاحیتیں ہی ختم ہو چکی ہیں کہ کس کس طریقے سے ان پر حملے ہو رہے ہیں اور کس طرح اسلام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، اسلامی ممالک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔اور یہ عقل جس طرح کہ میں نے کہا ماری جانی تھی کیونکہ اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانے بغیر اس کا جواب نہیں تھا اور آپ کو مان کر ہی دنیا میں اسلام کی عظمت بحال ہوئی تھی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے لوگوں کو پاک کیا تھا، شریعت کے احکامات پر عمل کرنے والا بنایا تھا، حکمت کی باتیں سکھائی تھیں، اور ایک قوم بنا کر ایک طاقت بخشی تھی اسی طرح آج بھی یہ سب کچھ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی قائم ہونا ہے۔کیونکہ پیشگوئیوں کے مطابق جواند ھیرا زمانہ تھا ایک ہزار سال کے عرصہ کا جس کے بعد مسیح موعود و مہدی موعود کا ظہور ہونا تھا تو اس کے بعد خود بخود یہ علم و حکمت اور دین کی باتیں تو دلوں میں بیٹھنی شروع ہو جانی تھیں۔بلکہ اس چیز سے انہیں لوگوں نے فائدہ اٹھانا تھا جنہوں نے اس مسیح و مہدی کو ماننا تھا۔پس اب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ تقویٰ اور یہ علم و حکمت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی قائم ہوتی ہے اور اسلام کا غلبہ اور اس کی ساکھ دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں نے ہی قائم کرنی ہے انشاء اللہ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الحكيم (الجمعۃ :4)۔تو یہ لوگ جو سی محمدی کے ذریعے سے اس پاک نبی کی امت سے جوڑے گئے ہیں ان لوگوں نے ہی وہ کھوئی ہوئی حکمت اور دانائی کی باتیں دوبارہ دنیا میں پھیلانی ہیں۔اور تقویٰ کا سبق kh5-030425