خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 152
152 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم ہونے کی کوشش کریں تا کہ ان کی دنیاوی طاقت اور ساکھ قائم ہو۔دشمن کو ان کی طرف آنکھ اٹھانے سے پہلے کئی دفعہ سوچنا پڑے کیونکہ یہ ایک طاقت ہیں۔یہ اظہار ہو کہ مسلمان بھی ایک طاقت ہیں۔یا پھر احمدی ان کے لئے دعا کریں۔یہ دعا بھی بہت اہم چیز ہے بلکہ سب سے اہم چیز دعا ہی ہے اور بڑا ضروری ہتھیار ہے۔اور ساتھ ہی ایک مہم کے ساتھ ان لوگوں کو ، مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کی جائے کہ اس زمانے کے امام کو مانے بغیر نہ تمہاری طاقت قائم ہوسکتی ہے، نہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوسکتا ہے۔ملکوں ملکوں میں فرقہ بندی ہے، یعنی اس وجہ سے اندرونی بٹوارے ہوئے ہوئے ہیں۔پھر ایک ملک دوسرے ملک سے اس فرقہ بندی کی وجہ سے خار کھاتا ہے۔غیروں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور یہ اسی حالت زار کا نتیجہ ہے کہ عرب دنیا میں عیسائیت نے بھر پور حملہ کیا ہوا ہے۔میں نے بچوں کی کہانیوں کی ایک کتاب دیکھی۔اس میں حضرت عیسی کے ماننے والوں کی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں پر کہانی کہانی میں فوقیت ظاہر کی گئی ہے۔اور آخر میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان بچہ مایوس ہو کر عیسائیت کے بارے میں سوچتا ہے۔اور آج کل کیونکہ ترقی کے لئے ، دنیا کے علوم سمجھنے کے لئے انگریزی زبان کو ضروری سمجھا جاتا ہے اس لئے انگریزی زبان سکھانے کے بہانے اس قسم کی کہانیاں بچوں میں متعارف کروائی جارہی ہیں۔تو یہ بھی ایک لمبے عرصے کی منصوبہ بندی ہے۔عیسائیت خود تو ان ممالک میں مذہب کے لحاظ سے آہستہ آہستہ ختم ہو گئی ہے یا ہو رہی ہے۔لوگ مذہب سے لاتعلق ہیں۔نام کے عیسائی ہیں عمل تو کوئی نہیں۔تو ان کے خیال میں چند نسلوں کے بعد اس طریقے سے، جو اب بچوں میں اختیار کیا گیا ہے اسلام پر عمل کرنے والے بھی نہیں رہیں گے۔اور یوں اِن تیل پیدا کرنے والے اور قدرتی وسائل رکھنے والے ممالک کی اقتصادیات پر بلا کسی خطرے کے ان کا قبضہ ہو جائے گا۔پھر عرب دنیا میں آج کل اسلام پر پادریوں کے ذریعے سے بھی بڑے اعتراض ہورہے ہیں۔اور مصر تک کے علماء جو اپنے آپ کو اسلام کا بڑا علمبر دار سمجھتے ہیں ان کو جواب نہیں دیتے۔اور سنا یہ ہے کہ با قاعدہ یہ پالیسی ہے اور کہا گیا ہے کہ جواب نہیں دینا۔تو یہ ان کا حال ہے۔اور آج اگر ان کو جواب دینے کی جرات پیدا ہوئی ہے تو جماعت احمدیہ کو اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے عرب دنیا میں ایم ٹی اے کے ذریعہ سے مصطفیٰ ثابت صاحب کا جو پروگرام چلایا گیا تھا یہ کافی اثر پیدا کر رہا ہے۔کئی عربوں نے بڑا سراہا ہے۔تو جس طرح ان مغربی ملکوں کے اپنے ہی لوگ اپنے اندر کی باتیں بعض دفعہ بتا دیتے ہیں کہ ان کو قابو کرنے کے کیا کیا طریقے ہیں، ان پر قبضہ کرنے کے کیا کیا طریقے ہیں۔تجارت کے ذریعے سے، kh5-030425