خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 43

خطبات مسرور جلد چهارم 43 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء پھر ماریشس کے ساتھ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، روڈر گس، یہ تقریباً چھوٹے جہاز کی ڈیڑھ گھنٹے کی فلائیٹ ہے۔وہاں صبح سے شام تک کا دورہ تھا۔چھوٹی سی نئی جماعت ہے۔آرام کے لئے اور کھانوں وغیرہ کے لئے ہوٹل میں انتظام تھا۔نمازوں کے لئے مسجد گئے تھے۔وہاں ہوٹل میں ہی ہمارے ساتھیوں کو ایک مصری جو بڑا پڑھا لکھا ہے ملا، وہ وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔اس نے خود ہی میرے بارے میں ہمارے ساتھیوں سے بات کرنی شروع کر دی۔اس کو کچھ تعارف تھا۔جب ہمارے آدمیوں نے پوچھا کہ تمہیں کس طرح تعارف ہوا، بتایا کہ اخبار اور ٹیلی ویژن سے ہوا۔بہر حال اس کو ایم ٹی اے اور ویب سائیٹ (Alislam) کا پتہ دیا۔تو اس طرح دوروں میں اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی طرح احمدیت کا تعارف کرانے کا، دوسروں تک پیغام پہنچانے کے موقع مہیا فرما تارہتا ہے۔پھر اس جزیرے کے گورنر جو پہلے پادری تھے لیکن بعد میں سیاست میں آگئے ان سے بھی جماعت کے بارے میں بڑی تفصیل سے باتیں ہوتی رہیں۔پیغام پہنچایا۔پھر مختلف جگہوں پر ماریشس میں جہاں بھی ( چھوٹا سا جزیرہ ہے ) سیر کا پروگرام بنایا وہاں مختلف ملکوں سے ٹورسٹ (Tourists) آئے ہوتے ہیں، وہ بھی تعارف حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کی توجہ اس طرف پھیرتا تھا۔خود آتے تھے ، تعارف حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے، بعد میں تصویر کھنچوانے کی خواہش ظاہر کرتے تھے۔مختصر یہ کہ احمدیت کا پیغام پہنچانے کی بھی وہاں تو فیق مجھے یا وفد کے افراد کو کسی نہ کسی طرح ملتی رہی۔وہ چھوٹا سا جزیرہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے، یہاں بالکل نئی جماعت ہے۔ایک مسجد ہے اور وہاں اب میں نے ایک نئی مسجد کی بنیاد رکھی ہے۔بالکل چھوٹا سا جزیرہ ہے۔تقریباً 36 ہزار کی آبادی ہے اور یہاں احمدی ہونے والوں کی اکثریت غریب لوگوں کی ہے، یہ پہلے پورا جزیرہ عیسائیوں کا تھا اب وہاں کچھ احمدی بھی آگئے ہیں۔گوتر بیتی لحاظ سے ابھی وہ کمزور ہیں۔ان کا جائزہ بھی لینے کی توفیق ملی پروگرام بنے۔کس طرح ان کو بہتر کرنا ہے۔بہر حال یہ لوگ بیعت کرنے کے بعد اخلاص میں بڑھ رہے ہیں۔وہاں جا کر شدید خواہش پیدا ہوئی اور دعا بھی ہوئی کہ یہ چھوٹا سا جزیرہ ہے، اس پورے جزیرے کو جلد سے جلد احمدیت کی آغوش میں لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔بہر حال چھوٹے جزیرے ہوں یا بڑے ہوں، چھوٹے ملک ہوں یا بڑے ملک ہوں ان کی اکثریت نے انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت اور حقیقی اسلام کی آغوش میں آنا ہی آنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں میں وہ نظارے دکھائے جب ہم احمدیت کا غلبہ دیکھیں۔ماریشس میں جماعت نے ایک ہوٹل میں ایک ریسیپشن (Reception) کا انتظام کیا ہوا تھا جس میں وہاں کے معززین اور سرکاری افسران آئے ہوئے تھے۔نائب وزیر اعظم بھی آئے ہوئے تھے۔میرا kh5-030425