خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 44

خطبات مسرور جلد چهارم 44 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء خیال ہے ان کے آباؤ اجداد آئر لینڈ یا سکاٹ لینڈ سے 4 نسلیں پہلے وہاں گئے ہوئے ہیں۔وہیں آباد 4،4 ہیں۔وہاں بھی ریسیپشن میں اسلام کی پیار و محبت کی تعلیم بتانے کی توفیق ملی۔نائب وزیر اعظم بڑی دلچپسی سے بعد میں کافی دیر آدھا پونا گھنٹہ اسلام کے بارے میں ، جماعت کی تعلیم کے بارے میں ، احمدیوں اور غیر احمدیوں کے فرق کے بارے میں سوال کرتے رہے۔اور ان سے اچھی گفتگو چلتی رہی۔تو دوروں میں جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ہر طبقہ کو پیغام پہنچانے کا موقع مل جاتا ہے۔ویسے اگر روٹین کے مطابق یہ پیغام پہنچانے کا کام چل رہا ہو تو شاید ایک عرصہ لگے۔میڈیا بھی بہت کوریج دے رہا ہوتا ہے۔اس طرح بہت سارے لوگوں کو لاکھوں کی تعداد میں پیغام پہنچ جاتا ہے۔ماریشس دنیا کا کنارہ بھی کہلاتا ہے۔اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان بہم پہنچائے کہ اس جزیرے کے لوگوں کو بھی اور دوسری دنیا سے آئے ہوئے لوگوں کو بھی اس کنارے میں پہنچ کر پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔ہمارا کام تو آواز دینا ہے اللہ تعالیٰ سب کے سینے کھولے کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو پہچان سکیں۔بہر حال ماریشس کا دورہ بھی اور جلسہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا کامیاب رہا۔بعض باتیں یاد بھی نہیں رہتیں، ریکارڈ میں ہوں گی۔بہر حال آہستہ آہستہ وہ باتیں یاد آتی ہیں۔ماریشس جماعت کے ہر فرد کو اللہ تعالیٰ جزا دے۔انہوں نے بڑے اخلاص اور وفا کا مظاہرہ کیا کئی ڈیوٹی دینے والے، کئی دن تک معمولی نیند لیتے تھے شاید ایک دو گھنٹے سوتے ہوں۔جس دن میں نے واپس آنا تھاوہ فلائیٹ رات کو اڑھائی بجے تھی۔تو نماز مغرب اور عشاء کے بعد میں نے وہیں مسجد میں ہی لوگوں کو خدا حافظ کہہ دیا کہ رات کو لیٹ تو بہر حال کوئی نہیں آئے گا۔لیکن میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں دو بجے ائر پورٹ پر پہنچا ہوں تو اس طرح لوگ اکٹھے تھے جس طرح دن کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں۔بچے بھی ، عورتیں بھی ، بوڑھے اور مرد بھی ، جوان بھی۔مجھے بتایا گیا کہ رات ایک بجے سے یہ لوگ آنا شروع ہو گئے تھے اور بچے بھی بالکل فریش (Fresh) تھے، کوئی اثر نہیں تھا کہ رات کا وقت ہے اور نیند آئی ہوئی ہے۔سب نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے انتہائی اخلاص و وفا کا مظاہرہ کیا اور جذبات سے پُر دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔اللہ سب کو جزا دے اور جلد سے جلد احمدیت کے پیغام کو اس پورے جزیرے میں پھیلا دے۔ماریشس سے روانہ ہو کر ہم صبح 11 بجے دہلی پہنچے۔یہاں پہنچ کر جذبات کا ایک نیا رخ تھا کہ قادیان کے قریب پہنچ رہے ہیں۔دہلی میں دو تین دن قیام رہا۔اس دوران میں مختلف جگہوں سے آئے ہوئے ایسے احمدی جو جلسے پر نہیں آسکتے تھے ان سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔اسی طرح کچھ تاریخی جگہوں کی سیر kh5-030425