خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 429

خطبات مسرور جلد چهارم 429 (35) خطبه جمعه یکم ستمبر 2006 مکرم مرز اعبدالحق صاحب، مکرم مولانا جلال الدین صاحب قمر، مکرمہ صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ اور مکرم ماسٹر منور احمد صاحب شہید گجرات کا ذکر خیر اور ان کے لئے دعاؤں کی تحریک شہداء کو یا درکھنا چاہئے کہ احمدیت کی راہ میں بہایا ہوا یہ خون تو کبھی ضائع نہیں جاتا فرمودہ مؤرخہ یکم ستمبر 2006ء ( یکم رتبوک 1385 ہش ) مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ۔وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَنُبَوثَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا إِلَّا تَهْرُ خَلِدِينَ فِيْهَا نِعْمَ أَجْرُ الْعَمِلِينَ ﴾ ( العنكبوت: 58-59) گزشتہ دنوں میں سلسلے کے چند بزرگوں کی وفاتیں ہوئی ہیں، یہ موت فوت کا عمل تو انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔جو اس دنیا میں آئے گا اس نے جانا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ یعنی ہر چیز جو اس زمین پر ہے وہ فانی ہے اور آگے فرمایا کہ وینقى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ﴾ (الرحمن : 28) اور صرف تیرے رب کی ذات باقی رہنے والی ہے جو جلال اور اکرام والی ہے۔پس دنیا میں جو آیا اس نے چلے جانا ہے، کسی نے پہلے کسی نے بعد کسی نے لمبی عمر پا کر، کسی نے جلدی۔پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ خدا سے چمٹے رہتے ہیں اور اس کی پناہ میں آ