خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 428 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 428

خطبات مسرور جلد چہارم 66 428 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 جاتا ہے اور اس ذوالجلال کی ہستی کا پتہ لگتا ہے جو ہزاروں پردوں میں مخفی ہے۔دعا کرنے والوں کیلئے آسمان زمین سے نزدیک آ جاتا ہے اور دعا قبول ہو کر مشکل کشائی کے لئے نئے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں اور ان کا علم پیش از وقت دیا جاتا ہے اور کم سے کم یہ کہ میخ آہنی کی طرح قبولیت دعا کا یقین غیب سے دل میں بیٹھ جاتا ہے۔جس طرح کہ کیل گڑ جاتی ہے اس طرح لگتا ہے کہ دل میں کوئی چیز کھب گئی ہے۔کیونکہ دعا قبول ہوگئی ہے، دل یہ گواہی دیتا ہے۔فرماتے ہیں کہ : ”سچ یہی ہے کہ اگر یہ دعا نہ ہوتی تو کوئی انسان خداشناسی کے بارے میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔دعا سے الہام ملتا ہے۔دعا سے ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ کلام کرتے ہیں۔جب انسان اخلاص اور توحید اور محبت اور صدق اور صفا کے قدم سے دعا کرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے تب وہ زندہ خدا اس پر ظاہر ہوتا ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہے۔دعا کی ضرورت نہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم اپنے دنیوی مطالب کو پاویں بلکہ کوئی انسان بغیر ان قدرتی نشانوں کے ظاہر ہونے کے جو دعا کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اس بچے ذوالجلال خدا کو پاہی نہیں سکتا جس سے بہت سے دل دُور پڑے ہوئے ہیں۔نادان خیال کرتا ہے کہ دعا ایک لغو اور بیہودہ امر ہے مگر اسے معلوم نہیں کہ صرف ایک دعا ہی ہے جس سے خداوند ذوالجلال ڈھونڈ نے والوں پر تجلی کرتا اور آنا القادر کا الہام انکے دلوں پر ڈالتا ہے۔ہر ایک یقین کا بھوکا اور پیاسا یا در کھے کہ اس زندگی میں روحانی روشنی کے طالب کے لئے صرف دعا ہی ایک ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین بخشا اور تمام شکوک و شبہات دور کر دیتا ہے کیونکہ جو مقاصد بغیر دعا کے کسی کو حاصل ہوں وہ نہیں جانتا کہ کیونکر اور کہاں سے اس کو حاصل ہوئے۔“ لصد ایام اسلح ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 240,239 ) اللہ تعالیٰ ہمیں دعاؤں پر مزید یقین عطا فرمائے اور اپنے فضل سے اس کو ہمیشہ بڑھاتا چلا جائے تا کہ خدا تعالیٰ پر ایمان اور یقین اور اس کے قادر و توانا ہونے کا فہم و ادراک ہمیں اس کے قریب تر کرتا چلا جائے اور ہم اس کے مقربوں میں شمار ہونے لگ جائیں۔