خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 424
424 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 1880ء سے 1884 ء تک براہین احمدیہ کی چار جلدیں تصنیف فرمائیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب عیسائیت کا عروج تھا اور ہر طرف اسلام پر تابڑ توڑ حملے ہورہے تھے، خود مسلمان اسلام کے بارے میں مشکوک ہو کر اسلام چھوڑ رہے تھے۔اس وقت کوئی بھی اسلام کو بچانے کے لئے کھڑا نہیں ہوا۔آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے ثابت فرمایا کہ قرآن کریم خدا کا کلام ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری نبی ہیں اور آپ نے چیلنج کیا کہ جو دلائل میں نے اس کتاب کی چار جلدوں میں دیئے ہیں ان کے تیسرے چوتھے یا پانچویں حصے کے برابر بھی اگر کوئی دلیل پیش کر دے تو دس ہزار روپے کا انعام دوں گا۔لیکن کوئی مقابل پر نہیں آیا اور مسلمان علماء بشمول مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو بعد میں بہت سخت مخالف ہو گئے تھے اور جو اہل حدیث کے بڑے لیڈر تھے انہوں نے بھی اس کتاب کی خوب تعریف کی۔بہر حال اس کتاب نے دشمنوں کے منہ بند کر دیئے اور عیسائیت کے حملوں کے سامنے بند باندھ دیا بلکہ صرف بند نہیں باندھ دیا ان کو مقابلے کے میدان سے ہی دوڑا دیا اور آج تک وہ دوڑے ہوئے ہیں۔لیکن جب آپ نے براہین احمدیہ کی تصنیف فرمائی تو اس کی اشاعت کے لئے اس وقت آپ کے مالی حالات ایسے نہیں تھے ، وسعت نہیں تھی ، بڑے تنگ حالات تھے۔اس بات پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بڑے پریشان تھے کہ اس کی اشاعت کس طرح ہوگی ، کس طرح اسلام کے دفاع کے لئے اپنی اس تصنیف کو دنیا کے سامنے پیش کروں گا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا اور اس پریشانی کو دور فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کتاب کی اشاعت کو بھی ایک نشان قرار دیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ :۔” جب میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ تصنیف کی جو میری پہلی تصنیف ہے تو مجھے یہ مشکل پیش آئی کہ اس کی چھپوائی کے لئے کچھ روپیہ نہ تھا اور میں ایک گمنام آدمی تھا۔مجھے کسی سے تعارف نہ تھا۔تب میں نے خدا تعالیٰ کی جناب میں دعا کی تو یہ الہام ہوا هُرِ إِلَيْكَ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكَ رُطَبًا جَنِيا۔۔۔(ترجمہ) کھجور کے تنہ کو ہلا تیرے پر تازہ بتازہ کھجور میں گریں گی۔چنانچہ میں نے اس حکم پر عمل کرنے کے لئے سب سے اول خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ کی طرف خط لکھا۔پس خدا نے جیسا کہ اس نے وعدہ کیا تھا ان کو میری طرف مائل کر دیا اور انہوں نے بلا توقف اڑھائی سو روپیہ بھیج دیا اور پھر دوسری دفعہ اڑھائی سورو پہیہ دیا۔“ اس زمانے میں روپے کی بڑی قیمت تھی تو اس سے کافی کام ہوا ہو گا۔فرماتے ہیں کہ :۔پھر دوسری دفعہ اڑھائی سو روپیہ دیا اور چند اور آدمیوں نے روپیہ کی مدد کی اور اس طرح پر وہ