خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 425
خطبات مسرور جلد چہارم 425 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 کتاب باوجود نومیدی کے چھپ گئی اور وہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔یہ واقعات ایسے ہیں کہ صرف ایک دو آدمی ان کے گواہ نہیں بلکہ ایک جماعت کثیر گواہ ہے جس میں ہندو بھی ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 350) اس کتاب کے ضمن میں بتادوں کہ گو بہت سے لوگوں نے آپ کی اعانت کی مددفرمائی۔لیکن بعض علماء نے انگریزی گورنمنٹ کے ڈر سے لینے سے انکار کر دیا۔اس واقعہ کی تفصیل حیات طیبہ میں شیخ عبدالقادر صاحب نے لکھی ہے کہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے پہلے آپ کو لکھا کہ ٹھیک ہے مجھے جلدیں بھیج دیں، پھر انکار کیا۔نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم اہل حدیث کے ایک مشہور عالم تھے اور والیہ بھوپال نواب شاہجہان بیگم سے ان کی شادی ہوئی تھی۔شادی کر لینے کی وجہ سے شاید ان کی شہرت میں خاصا اضافہ ہو گیا تھا۔آپ نے دینی کتابوں کی اشاعت کے لئے بھی خاص جد و جہد کی تھی۔اس لئے حضرت اقدس نے نواب صدیق حسن خان صاحب کو ایک درد دل رکھنے والا مسلمان سمجھ کر براہین احمدیہ کی اشاعت میں حصہ لینے کی طرف توجہ دلائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی تحریک پر تو انہوں نے 15 ، 20 جلدیں خریدنے پر آمادگی کا اظہار کیا مگر پھر دوبارہ یاد دہانی پر گورنمنٹ انگریزی کے خوف کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا اور براہین احمدیہ کا پیکٹ جو انہیں پہنچ چکا تھا اسے چاک کر کے ، پھاڑ کر واپس بھیج دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک مرید حافظ احمد علی صاحب کا بیان ہے کہ جب کتاب واپس آئی تو اس وقت حضرت اقدس اپنے مکان میں ٹہل رہے تھے، کتاب کی یہ حالت دیکھ کر کہ وہ پھٹی ہوئی ہے اور نہایت بری طرح اس کو خراب کیا گیا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا چہرہ متغیر ہوا اور غصے سے سرخ ہو گیا۔کہتے ہیں کہ عمر بھر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسے غصے کی حالت میں نہیں دیکھا۔آپ کے چہرے کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ میں غیر معمولی ناراضگی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، آپ بدستور ادھر ادھر ٹہلتے رہے اور خاموش تھے کہ یکا یک آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے۔اچھا تم اپنی گورنمنٹ کو خوش کر لو، نیز یہ دعا کی کہ ان کی عزت چاک کر دی جائے۔اس کے بعد جب براہین احمدیہ کا چوتھا حصہ حضور نے تحریر فرمایا تو اس میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نواب صاحب کے اس خلاف اخلاق فعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ:۔”ہم بھی نواب صاحب کو امید گاہ نہیں بناتے بلکہ امید گاہ خدا وند کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے ( خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی رہے )۔(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 320)