خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 294
خطبات مسرور جلد چهارم 294 خطبہ جمعہ 16 جون 2006 ء کی ترقی کے لئے مساجد کی تعمیر ضروری ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی خواہش تھی کہ یورپ میں اگر ہم اڑھائی ہزار مسجدیں بنالیں تو تبلیغ کے بڑے وسیع راستے کھل جائیں گے۔ابھی تو ہمارے پاس پورے یورپ میں چند مساجد ہیں جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔پس ابھی بہت لمبا سفر باقی ہے۔اور اگر آپ پختہ ارادہ کر لیں تو یقینایہ کوئی ایسالباسفر نہیں ہے۔اور یہ کوئی ایسا مشکل ٹارگٹ نہیں ہے کہ آپ حاصل نہ کر سکیں۔پھر حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے بھی بڑے غور کے بعد ( جیسے کہ میں نے کہا ہے یہ ٹارگٹ آپ کو دیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پھر خلفاء بھی یہی کہتے رہے تو ان ارشادات کو سننے کے بعد یہ بات تو ختم ہو گئی کہ مسجدوں کی ابھی ضرورت نہیں ہے، جماعت کچھ کم ہے۔کہیں اور پیسے خرچ کئے جائیں۔اب صرف آپ کا مسئلہ یہ رہ گیا کہ جہاں مساجد بنائی جا رہی ہیں وہاں بنائی جائیں یا ذ را با ہر نکل کر بنائی جائیں یا شہروں کے اندر بنائی جائیں۔اور سال میں کتنی بنائی جائیں؟ یہ جو سوال ہے کہ اگر شہر سے با ہر نکل کر بنے تو وہاں نمازی نہیں آتے اس کے بارے میں کچھ تو میں وضاحت کر چکا ہوں، اس لئے اپنی سوچ کو بدلیں۔اس کے علاوہ بعض عملی وقتیں بھی ہیں جو صرف جرمنی میں نہیں ہیں بلکہ بعض دوسرے مغربی ممالک میں بھی ہیں۔جو پلاٹ شہروں کے ساتھ بالکل اندر ہوں بڑے مہنگے ہوتے ہیں۔پارکنگ کے مسائل ہوتے ہیں۔مسجد بنانے کیلئے اجازت کے مسائل ہیں۔اور اس طرح کے کئی اور مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان ملکوں میں مقامی لوگوں اور کونسل سے بڑی بحث و تمحیص کے بعد کہیں جا کر مسجد بنانے کی اجازت ملتی ہے۔تو سب سے بڑی بات یہی ہے کہ ہمارے وسائل کے لحاظ سے ہمیں نسبتا بہتر ، اچھے پلاٹ کہاں مل سکتے ہیں۔اس کے مطابق لینے کی کوشش کرنی چاہئے اور لئے جاتے ہیں۔اب آپ دیکھ لیں آپ کے کئی شہر ہیں۔جماعتیں ہیں جو بعض قصبوں اور شہروں میں مساجد بنانا چاہتی ہیں۔لیکن انکے پلاٹ کے حصول اور مسجد کی تعمیر کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے باوجود خواہش ہونے کے ابھی تک جماعتیں اس کو عملی جامہ نہیں پہنا سکیں۔اب برلن کی مسجد یہاں بن رہی ہے۔وہی دیکھ لیں بڑی دقتیں پیدا ہو رہی ہیں۔میری یہ شدید خواہش ہے کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی اس خواہش کی جلد از جلد تکمیل ہو جائے کہ برلن مسجد بن جائے۔خلافت ثانیہ سے برلن میں مسجد بنانے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ہندوستان کی لجنہ نے اس کیلئے رقم جمع کی تھی لیکن بعض وجوہات کی بناپر مسجد تعمیر نہ ہوسکی۔پھر وہی رقم مسجد فضل لندن میں خرچ ہو گئی۔بہر حال ابھی ایک عرصہ سے کوشش کی جارہی ہے۔لیکن کبھی پلاٹ کے حصول میں دقت، وہ ملا تو کونسل کے اعتراضات، وہ دور ہوئے تو علاقے کے لوگوں کے اعتراضات، وہ دور ہوئے تو بعض شرارتی عنصر جس کا کام شور شرابا کرنا ہے، ان کی طرف سے طوفان بدتمیزی برپا ہو گیا۔kh5-030425