خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 295

خطبات مسرور جلد چہارم 295 خطبہ جمعہ 16 جون 2006ء بہر حال امید ہے کوششیں جاری ہیں کہ جلد تعمیر ہو جائے گی ، انشاء اللہ تعالی۔آپ لوگ بھی دعا کریں اور دنیا کے احمدی بھی دعا کریں کہ یہ مسجد تعمیر ہو جائے۔کیونکہ یہ ایسٹ جرمنی میں ہماری پہلی مسجد ہوگی۔اور آج کل جو اسلام کو بدنام کرنے والا ایک تصور پیدا کیا جارہا ہے اسکی وجہ سے یہ ساری روکیں پیدا ہو رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ یہ تعمیر جلد مکمل ہو جائے اور پھر ان کو جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے اسلام کی جو خوبصورت اور حسین تعلیم ہے اسکے بارے میں پتہ چلے گا اور وہ بتائی جائے گی انشاء اللہ تعالی۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بھی یورپ میں مسجد میں بنانے کی خواہش تھی اور حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی بھی یہ خواہش تھی اور انہوں نے آپ لوگوں کی استعدادوں کو دیکھتے ہوئے دس سال میں 100 مساجد بنانے کی تحریک فرمائی۔لیکن کچھ مستیوں اور کچھ معاشی حالات کی وجہ سے یہ تعمیر نہ ہو سکی۔پھر میں نے حالات کے مطابق امیر صاحب کو کہا کہ پانچ مسجد میں ہی ہر سال بنائیں۔کیونکہ جرمنی جماعت کی سابقہ روایات کو دیکھ کر میرا خیال تھا اور ہے کہ جو بھی حالات ہوں آپ اتنی مساجد ہر سال بنا ئیں گے اور اللہ کے فضل سے بنا سکنے کی پوزیشن میں ہیں۔اور انشاء اللہ تعالیٰ جرمنی یورپ کا پہلا ملک ہوگا جہاں کے سو شہروں یا قصبوں میں ہماری مساجد کے روشن مینار نظر آئیں گے اور جس کے ذریعہ سے اللہ کا نام اس علاقے کی فضاؤں میں گونجے گا جو بندے کو اپنے خدا کے قریب لانے والا بنے گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو یہ کام مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔لیکن امیر صاحب کو میرے یہ کہنے پر کہ آپ لوگ پانچ مسجد میں کم از کم بنائیں یا مزید توجہ دیں۔لوگوں نے یہ تاثر لے لیا ہے کہ شاید میں امیر صاحب سے یا جماعت جرمنی سے ناراض ہوں تو یہ بالکل غلط تاثر ہے۔ہاں اگر آپ لوگ خدا نہ کرے، خدا نہ کرے، خدا نہ کرے مکمل طور پر اس بات سے انکاری ہو جائیں کہ مسجد میں بن ہی نہیں سکتیں تو پھر میری ناراضگی بہر حال حق بجانب ہوگی۔لیکن اللہ تعالیٰ وہ وقت بھی نہیں لائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔میرے توجہ دلانے پر اور ذیلی تنظیموں کے سپرد یہ کام کرنے پر کہ آپ لوگوں نے مساجد کی تعمیر کے لئے اپنی تنظیموں کو توجہ دلانی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مثبت نتائج پیدا ہوئے ہیں۔خدام الاحمدیہ نے ہر سال ایک ملین یورو دینے کا وعدہ کیا تھا اور اللہ کے فضل سے اپنے وعدے سے بڑھ کر ادا ئیگی کی ہے۔الحمد للہ۔گزشتہ سال بھی انہوں نے 1۔2 ملین دیا۔اس سال کا وعدہ بھی 1۔1 ملین کا تھا اور اس سے زائد اللہ تعالیٰ کے فضل سے وصولی ہو چکی ہے۔الحمد للہ۔تو اگر نیک نیتی ہو، اللہ کی رضا حاصل کرنا مقصود ہو، اس کے نام کی سربلندی مقصد ہو، اسلام اور احمدیت کا جھنڈا دنیا میں لہرانا چاہتے ہوں تو کوئی معاشی روکیں اور دوسری ضروریات کے جو بہانے ہیں وہ راہ میں حائل نہیں ہو سکتے۔اسی طرح انصار اللہ نے بھی kh5-030425