خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 293

293 خطبہ جمعہ 16 جون 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم سنتا ہے۔کوشش یہ ہونی چاہئے کہ مسجد میں تعمیر ہوں اور پھر اس کو آباد رکھنے کی بھی پوری کوشش ہو۔آپ لوگ نیک نیتی سے مسجدیں بناتے چلے جائیں گے تو آبادیاں خود بخود وہاں پہنچ جائیں گی۔اب مسجد فضل لندن کو دیکھ لیں اس وقت کے مبلغ نے یا شاید کسی احمدی نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں لکھا کہ بہت دُور جگہ ہے۔یہاں کوئی نہیں آئے گا۔تو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے فرمایا نہیں جو جگہ مل گئی ہے یہ ٹھیک ہے یہیں بنائیں۔آج دیکھ لیں جو مسجد فضل لندن کی یہ جگہ ہے، کس طرح آباد ہے۔یہ علاقہ رہائش کے لحاظ سے بھی مہنگے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔پھر آسٹریلیا میں سڈنی میں مسجد بنائی گئی تو جنگل تھا۔رقبہ بڑا مل گیا جماعت نے وہاں لے لیا۔حال یہ تھا کہ بتانے والے بتاتے ہیں کہ بعض گلیوں کے جو شرارتی لڑکے ہوتے ہیں، اُچکے قسم کے لڑکے ہوتے ہیں۔ان کا اور چوروں اور ڈاکوؤں کا بھی روزانہ اس جنگل میں ڈیرہ رہتا تھا۔ہر روز کوئی گروہ جنگل میں چھپنے کے لئے آ جاتا تھا۔اور اس علاقے میں سڈنی میں ہماری یہ ایک مسجد تھی۔یا ایک مشنری صاحب کا گھر تھا۔میرا خیال ہے کہ اس زمانے میں شکیل منیر صاحب ہوتے تھے۔اور وہ گھر بھی ٹین اور لکڑی کی دیوار سے بنا ہوا تھا۔تو کہتے ہیں کہ کبھی ہمارے مشنری صاحب روزانہ رات کو پولیس کو فون کر رہے ہوتے تھے کہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔کبھی پولیس خود وہاں ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ سے چوروں ڈاکوؤں کی سرچ (Search) کر رہی ہوتی تھی۔تو ان میاں بیوی کی جو اکیلے رہتے تھے راتیں بھی شاید جاگ کر گزرتی ہوں لیکن بہر حال اب وہی علاقہ آباد ہونا شروع ہو گیا ہے اور قریب قریب آبادیاں آ رہی ہیں۔جنگل بھی کافی کٹ گیا ہے۔ابھی بھی وہاں جو احمدی رہ رہے ہیں جو مسجد سے قریب ترین احمدی بھی ہے وہ بھی ہیں پچیس منٹ کی ڈرائیو (Drive) پر ہے۔لیکن پھر بھی وہ خوش ہیں کہ ہماری مسجد ہے اور قریب ہے۔اس کو دور نہیں سمجھتے۔یہاں اس ملک میں تو کسی جگہ بھی میرے خیال میں کسی شہر کی مسجد بھی اتنی دور نہیں ہے کہ جو قریب ترین احمدی بھی ہو وہ چھپیں تمیں منٹ کی ڈرائیو (Drive) پر ہو۔اس لئے یہ بہانے ہیں کہ مسجد ویرانے بن گئی یا ایسے علاقے میں بن گئی جہاں رہائشی علاقہ نہیں ہے۔اس لئے ہم مسجد جا نہیں سکتے۔پھر یہ لکھنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ سوائے اس کے جس نے نئی نئی کار چلانی سیکھی ہو اور کار چلانے کا شوق ہو وہ مسجد چلا جائے تو چلا جائے اور کوئی اتنی دور مسجد میں نہیں جا سکتا۔پس ان بہانوں کو چھوڑ دیں کہ مسجد میں اتنی دور ہیں۔یہ بھی ان بے چاروں پر بدظنی ہے جو مسجد میں جاتے ہیں کہ کار چلانے کے شوق میں مسجد آتے ہیں۔عبادت کرنے کے شوق کے لئے مسجد نہیں آتے۔مسجد میں بہر حال ہمیں ان بہانوں سے بچتے ہوئے آباد کرنی چاہئیں اور آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میسا کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جماعت kh5-030425