خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 264

خطبات مسرور جلد چهارم 264 خطبہ جمعہ 26 رمئی 2006ء کے ہر حکم کو ماننے کے لئے بلکہ ہر اشارے کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔خلیفہ وقت کی بیعت میں شامل ہوئے ہیں تو ان باتوں پر بھی عمل کرنے کی کوشش کریں جن کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو تبھی بیعت کا حق ادا ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی طرح کے ایک بدظنی کے بارے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” دوسرے کے باطن میں ہم تصرف نہیں کر سکتے اور اس طرح کا تصرف کرنا گناہ ہے۔انسان ایک آدمی کو بد خیال کرتا ہے اور آپ اس سے بدتر ہو جاتا ہے“۔فرمایا ”کتابوں میں میں نے ایک قصہ پڑھا ہے کہ ایک بزرگ اہل اللہ تھے انہوں نے ایک دفعہ عہد کیا کہ میں اپنے آپ کو کسی سے اچھا نہ سمجھوں گا۔ایک دفعہ ایک دریا کے کنارے پہنچے ( دیکھا ) کہ ایک شخص ایک جوان عورت کے ساتھ کنارے پر بیٹھا روٹیاں کھا رہا ہے اور ایک بوتل پاس ہے اس میں سے گلاس بھر بھر کر پی رہا ہے ان کو دُور سے دیکھ کر اس نے کہا کہ میں نے عہد تو کیا ہے کہ اپنے کو کسی سے اچھا نہ خیال کروں مگر ان دونوں سے تو میں اچھا ہی ہوں۔اتنے میں زور سے ہوا چلی اور دریا میں طوفان آیا ایک کشتی آرہی تھی وہ غرق ہو گئی وہ مرد جو کہ عورت کے ساتھ روٹی کھار رہا تھا اٹھا اور غوطہ لگا کر چھ آدمیوں کو نکال لایا اور انکی جان بچ گئی۔پھر اس نے اس بزرگ کو مخاطب کر کے کہا کہ تم اپنے آپ کو مجھ سے اچھا خیال کرتے ہوئیں نے تو چھ کی جان بچائی ہے۔اب ایک باقی ہے اسے تم نکالو۔یہ سن کر وہ بہت حیران ہوا اور اس سے پوچھا کہ تم نے یہ میرا ضمیر کیسے پڑھ لیا اور یہ معاملہ کیا ہے؟ تب اس جوان نے بتلایا کہ اس بوتل میں اسی دریا کا پانی ہے۔شراب نہیں ہے اور یہ عورت میری ماں ہے اور میں ایک ہی اس کی اولاد ہوں۔قومی اس کے بڑے مضبوط ہیں اس لئے جوان نظر آتی ہے۔خدا نے مجھے مامور کیا تھا کہ میں اسی طرح کروں تا کہ تجھے سبق حاصل ہو۔پھر حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ: ” خضر کا قصہ بھی اسی بناء پر معلوم ہوتا ہے۔سوء ظن جلدی سے کرنا اچھا نہیں ہوتا، یعنی بدظنی جلدی سے نہیں کرنی چاہئے " تصرف فی العباد ایک نازک امر ہے اس نے بہت سی قوموں کو تباہ کر دیا کہ انہوں نے انبیاء اور ان کے اہل بیت پر بدظنیاں کیں“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 568,569 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” اکثر لوگوں میں بدظنی کا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔وہ اپنے بھائی سے نیک ظنی نہیں رکھتے اور ادنی ادنی سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کرنے لگتے ہیں۔اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔اس لئے اول ضروری ہے کہ حتی الوسع اپنے بھائیوں پر بدظنی نہ کی جاوے اور kh5-030425