خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 265
خطبات مسرور جلد چهارم 265 خطبہ جمعہ 26 رمئی 2006ء ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔اور انس پیدا ہوتا ہے۔اور آپس میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلا کینہ بغض حسد وغیرہ سے بچارہتا ہے“۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 215,214 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور پھر یہ ہے کہ یہ نیک ظن ہے جس سے عبادتوں میں حسن پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہوتا ہے۔اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نصر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا کہ آپ نے فرما یا حُسْنُ الظَّنِ مِنْ حُسْنِ العِبَادَة کہ حسن ظن تو حسن عبادت ہے“۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فى حسن الظن حدیث نمبر (6094 پس جہاں بدظنیاں جہنم میں دھکیلتی ہیں تو حسن ظن عبادت میں شمار ہوتا ہے اور اس معیار کو حاصل کرنے کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔بدظنیاں جب پیدا ہوتی ہیں تو اپنی خود ساختہ کہانیوں میں زور پیدا کرنے کے لئے پھر انسان جھوٹ کا بھی سہارا لیتا ہے اور اپنی باتوں میں اس کی بے تحاشا ملونی کر دیتا ہے۔اور جھوٹ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دیا ہے، شرک کے برابر ٹھہرایا ہے۔پس ہر احمدی کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ وہ احمدی اس وقت کہلا سکتا ہے جب سچائی پر قائم ہوگا اور ہر قتم کے شرک سے اپنے آپ کو پاک رکھے گا۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچائی فرمانبرداری کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور فرمانبرداری جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور ایک شخص مسلسل سچ بولتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق ہو جاتا ہے۔اور جھوٹ نافرمانی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نافرمانی دوزخ میں لے جاتی ہے۔اور ایک شخص مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کذاب لکھا جاتا ہے۔(بخاری کتاب الادب باب قول الله تعالی یا ايها الذين امنوا اتقو الله و كونوا۔حدیث 6094 اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے بھی کبھی بھی جھوٹ کا سہارا لے کر کوئی کذاب بننے والا نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں۔اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی kh5-030425