خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 263 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 263

263 خطبات مسرور جلد چهارم خطبہ جمعہ 26 رمئی 2006 ء سے یا خلیفہ وقت سے اس کا خاص تعلق ہے تو اس تعلق میں دُوری پیدا کی جائے اور اکثر پیچھے ذاتی عناد ہوتا ہے۔جب بدظنیاں شروع ہوتی ہیں تو پھر بجس بھی بڑھتا ہے اور پھر ہر وقت یہ بدظنیاں کرنے والے اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کسی طرح دوسرے کے نقائص پکڑیں اور اسکی بدنامی کریں۔ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک بادشاہ محمود غزنوی کا ایک خاص جرنیل تھا۔بڑا قریبی آدمی تھا۔اس کا نام ایاز تھا۔انتہائی وفادار تھا اور اپنی اوقات بھی یادرکھنے والا تھا۔اس کو پتہ تھا کہ میں کہاں سے اٹھ کر کہاں پہنچا ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد کرنے والا تھا اور بادشاہ کے احسانوں کو بھی یادر کھنے والا تھا۔ایک دفعہ ایک معرکے سے واپسی پر جب بادشاہ اپنے لشکر کے ساتھ جارہاتھا تو اس نے ایک جگہ پڑاؤ کے بعد دیکھا کہ ایاز اپنے دستے کے ساتھ غائب ہے۔تو اس نے باقی جرنیلوں سے پوچھا کہ وہ کہاں گیا ہے تو ارد گرد کے جود وسرے لوگ خوشامد پسند تھے اور ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ کسی طرح اس کو بادشاہ کی نظروں سے گرایا جائے اور ایاز کے عیب تلاش کرتے رہتے تھے تو انہوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا کہ بادشاہ کو اس سے بدظن کریں۔اپنی بدظنی کے گناہ میں بادشاہ کو بھی شامل کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے فوراً ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں جس سے بادشاہ کے دل میں بدظنی پیدا ہو۔بادشاہ کو بہر حال اپنے وفادار خادم کا پتہ تھا۔بدظن نہیں ہوا۔اس نے کہا ٹھیک ہے تھوڑی دیر دیکھتے ہیں۔آ جائے گا تو پھر پوچھ لیں گے کہ کہاں گیا تھا۔اتنے میں دیکھا تو وہ کمانڈر اپنے دستے کے ساتھ واپس آ رہا ہے اور اس کے ساتھ ایک قیدی بھی ہے۔تو بادشاہ نے پوچھا کہ تم کہاں گئے تھے۔اس نے بتایا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی نظر بار بار سامنے والے پہاڑ کی طرف اٹھ رہی تھی تو مجھے خیال آیا ضرور کوئی بات ہو گی مجھے چیک کر لینا چاہئے ، جائزہ لینا چاہئے ، تو جب میں گیا تو میں نے دیکھا کہ یہ شخص جس کو میں قیدی بنا کر لایا ہوں ایک پتھر کی اوٹ میں چھپا بیٹھا تھا اور اس کے ہاتھ میں تیر کمان تھی تا کہ جب بادشاہ کا وہاں سے گزر ہو تو وہ تیرا کا وار آپ پر چلائے۔تو جوسب باقی سردار وہاں بیٹھے تھے جو بدظنیاں کر رہے تھے اور بادشاہ کے دل میں بدظنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ سب اس بات پر شرمندہ ہوئے۔تو اس واقعہ سے ایک سبق بدظنی کے علاوہ بھی ملتا ہے کہ ایاز ہر وقت بادشاہ پر نظر رکھتا تھا۔ہر اشارے کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔پس یہ بھی ضروری ہے کہ جس سے بیعت اور محبت کا دعوئی ہے اس کے ہر حکم کی تعمیل کی جائے اور اس کے ہر اشارے اور حکم پر عمل کرنے کے لئے ہراحمدی کو ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام kh5-030425