خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 219

خطبات مسرور جلد چهارم 219 خطبہ جمعہ 28 / اپریل 2006 ء فسادوں کو ختم کرنے والے ہوں گے۔پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے لئے عاجزی اختیار کرو۔کیونکہ تکبر اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔روایت میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اے عائشہ ! عاجزی اختیار کر کیونکہ اللہ تعالیٰ عاجزی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور تکبر کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے۔(کنز العمال جلد نمبر 3 کتاب الاخلاق قسم الاول حدیث نمبر 57311) پس یہ حکم ایسا ہے کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں سوسائٹی میں امن اور محبت کی فصلیں اگا ر ہے ہوں گے کسی کو کبھی اپنی قوم کا یا خاندان کا تکبر نہیں کرنا چاہئے۔تمام لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ایک دوسرے کی عزت کریں، احترام کریں، ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں تو یہی چیزیں ہیں جو ہر قسم کی دشمنیاں ختم کرنے والی ہوں گی۔یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے رہنے کی ضرورت ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا۔اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے رہیں اور اس سے دعا مانگیں۔آپ کے دل میں اللہ کا خوف ہو ہر وقت یہ احساس ہو کہ ایک خدا ہے جس کے سامنے ہم نے پیش ہونا ہے اور پھر ہمارا حساب کتاب بھی ہونا ہے۔اگر تو یہ احساس قائم رہے گا تو جس دل میں بھی یہ احساس قائم رہے گاوہ اللہ کے حقوق ادا کرنے والا بھی ہو گا اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والا بھی ہوگا۔اور ایک احمدی کے دل میں جیسا کہ میں نے کہا یہ احساس ہونا چاہئے ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ایک احمدی میں اور دوسروں میں عبادت کے لحاظ سے بھی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لحاظ سے بھی ایک واضح فرق ہونا چاہئے ، اور نظر بھی آنا چاہئے۔ہر ایک کو نظر آئے اور آپ کے یہ نیک نمونے ہی ہیں جو دوسروں کو آپ کے قریب کریں گے اور آپ کو یہ توفیق ملے گی کہ دنیا کو بھی اس طرف توجہ دلا سکیں کہ اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے یہ راستے ہیں جن پر ہم چل رہے ہیں تم بھی آؤ اور اپنی دنیا کو بھی سنوار لو اور اپنی آخرت کو بھی سنوار لو۔ہر بچہ، بوڑھا، مرد، عورت اس طرف توجہ کرے کہ ہم نے حقیقی معنوں میں خدا کا عبادت گزار بندہ بننا ہے اور مخلوق کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔جب آپ میں سے ہر kh5-030425