خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 552 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 552

خطبات مسرور جلد سوم 552 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء پاک کرنے کے لئے مال کی قربانی۔جیسا کہ بعض غیر احمد یوں میں رواج ہے، اپنے کاروبارنا جائز طور پر کرتے ہیں۔لوگوں کو لوٹتے ہیں یا گھٹیا سودا بیچتے ہیں یا کوالٹی اچھی نہیں ہوتی یا شراب بیچنے والے ہیں اور پھر حج پر جا کر یا تھوڑا بہت صدقہ و دقہ کر کے سمجھتے ہیں کہ بہت نیک کام کر لیا اور اسی طرح واپس آ کر پھر وہی پرانے دھو کے شروع ہو جاتے ہیں۔تو ایسے حج اور ایسے صدقے کوئی فائدہ نہیں دیتے۔جو مستقل صاف کرنے والے نہ ہوں یا حرام ذریعہ سے کمائے ہوئے مال سے ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو پاک مال چاہئے تا کہ تمہارا تزکیہ ہو۔اور جب اس پاک مال سے تزکیہ نفس بھی ہوگا اور یہ ان پہلی دو قسم کی نیکیوں میں بھی شامل ہو جائے گا۔مالی قربانیوں کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی تو پھر وہ ایمان کا پودا بڑھتا ہے اور پھر اس کی ٹہنیاں نکلنی شروع ہو جاتی ہیں پھر وہ نرم پودا نہیں رہتا۔پس ایمان کے پودے کی بڑھوتری کے لئے پاک مال سے کی گئی مالی قربانی بھی ضروری ہے۔پھر شہوات نفسانیہ ہیں۔ان کو کنٹرول کرنا ہے۔ان ملکوں میں آزادی کی وجہ سے بہت سی بیہودگیاں ہیں۔جگہ جگہ پر غلاظتیں ہیں، نفسانی خواہشات ہیں، جن میں پڑ کر انسان اپنے اندرا اپنے ایمان کے پودے کو کمزور کرنے والا بن جاتا ہے۔پس یہ ایمان کی نرم ٹہنیاں بھی اس وقت مضبوط ہوں گی جب اپنے نفس پر کسی برائی کو غالب نہیں آنے دو گے۔اور جب یہ چیز حاصل کر لو گے تو ایمان میں مزید مضبوطی پیدا ہوگی اور پھر اگلا قدم یہ ہے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے تمہارے جتنے بھی عہد ہیں ان کی حفاظت کرو۔جتنی امانتیں ہیں ان کی حفاظت کرو۔ہر احمدی کا بہت بڑا عہد اس زمانے کے امام کے ساتھ ہے، ان کو مان کر ہے۔جو عہد بیعت آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا ہوا ہے، ہر ایک اپنا جائزہ لے کہ کیا وہ ان دس شرائط بیعت کی پابندی کر رہا ہے؟ ہر احمدی خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کرتا ہے کہ اے خدا! میں تیری تعلیم کو بھلا بیٹھا تھا لیکن اب مسیح موعود کے ہاتھ پر عہد کرتا ہوں کہ میرے گزشتہ گناہوں کو معاف فرما آئندہ انشاء اللہ میں اس عہد پر قائم رہوں گا۔پھر عہدیداروں کے عہد ہیں۔ان کے سپر د امانتیں ہیں۔وہ جائزے لیں کہ کہاں تک وہ اپنے عہد اور اپنی امانتیں پوری طرح ادا کر رہے ہیں۔ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔جائزہ لیں