خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 553 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 553

خطبات مسرور جلد سوم 553 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء کہ اپنے کام، اپنے فرائض کا حق ادا نہ کر کے وہ کہیں گناہگار تو نہیں ہور ہے۔وہ اپنے ایمانوں میں ترقی کرنے کی بجائے، ایمانی پودے کی حفاظت اور آبیاری کی بجائے اس کو سکھا تو نہیں رہے۔کیونکہ ایمان کی مضبوطی کے لئے ہر پہلو پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اس لئے جائزہ لیں کہ کوئی پہلو ایسا تو نہیں رہ گیا جس سے میرا ایمان وہیں رک گیا ہو۔مجھے تو حکم ہے کہ تم نے نیکیوں میں ترقی کرنی ہے۔جہاں نیکیوں میں ترقی رکی وہاں ایمان کی ترقی بھی کر جائے گی۔غرض یہ عہد اور امانتیں اس قدر ہیں کہ جس کی انتہا نہیں ہے۔ایک عہد سے دوسرا عہد سامنے آتا چلا جاتا ہے۔اور ایک امانت کی ادائیگی کے بعد دوسری امانت کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔چاہے وہ ایک عام احمدی کی طرف سے ہو ، عہدیداروں کی طرف سے ہو یا کسی ذمہ دار کی طرف سے ہو۔اور یہیں پر بس نہیں ہے۔بلکہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد جو تم نے ایمان کے درخت کو مضبوط کیا ہے اس پر بھی ابھی پھل نہیں لگے گا جس سے تم بھی فیض پاسکو اور دوسرے بھی فیض اٹھائیں۔اس کے لئے اور طاقتیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔غرض یہ ایک مسلسل عمل ہے جس کو تا زندگی جاری رکھنا ہوگا۔اور جب ان نیکیوں میں اور ایمان کو مضبوط کرنے کی کوشش میں با قاعدگی آجائے گی پھر ایمان ایسی حالت میں پہنچ جائے گا کہ جب ہر فعل خود بخو دخدا کی رضا حاصل کرنے والا فعل ہو گا۔پس ہر احمدی کو اپنے ہر فعل سے خدا کی رضا کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے۔جب یہ صورت ہو جائے گی تو اپنے ماحول پر بھی آپ پہلے سے بہت بڑھ کر اثر انداز ہورہے ہوں گے۔اور احمدیت اور حقیقی اسلام کے پیغام کو لوگوں کی ہمدردی اور خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے پھیلا رہے ہوں گے۔اللہ کرے کہ آپ اس طرف توجہ کریں۔اپنی ایمانی حالت میں بھی ترقی کرنے والے ہوں اور دنیا کو بھی احمدیت کی خوبصورت تعلیم سے آگاہ کرنے والے ہوں۔اور آپ کی زندگی بھی پھل لانے والی زندگی بن جائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا سے مفقود ہو گئی تھی اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائے نہیں جاتے