خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 551
خطبات مسرور جلد سوم 551 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء تو فرمایا کہ جب تک عاجزی پیدا نہیں ہوگی ،نفس کی قربانی کا جذبہ پیدا نہیں ہو گا اس وقت تک ایمان نہیں بڑھ سکتا۔پس یہ عاجزی اور نفس کی قربانی ہے اگر پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دل میں ، دل کی زمین پر ایمان کا بیج بویا گیا ہے۔اس لئے اپنے اندر ایمان پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے عاجزی کو اپنے اندر جگہ دو۔پس جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ اپنے اندر عاجزی اور نفس کی قربانی پیدا کریں گے تو تب ایمان میں ترقی کرنے کے لئے دل کی زمین تیار ہوگی ،۔پھر فرمایا کہ لغو باتیں ہیں۔اس میں کھیل کو د بھی ہیں، جیسا کہ پہلے میں بتا آیا ہوں ایسے کھیل بھی ہیں جو عبادتوں سے روکنے والے ہیں۔پھر یہ لغویات ہیں جو جھوٹی اناؤں اور عزتوں کی طرف لے جانے والی ہیں۔پھر اس قسم کی اور لغویات ہیں جو مختلف قسم کی برائیاں ہیں۔تو پہلی بات یہ ہے کہ عاجزی اختیار کرو تو ایمان دل میں جگہ پائے گا۔پھر لغو اور بیہودہ باتوں کو ترک کرو۔لوگوں کے حقوق مارنے سے بچو۔تو ایمان کا یہ بیج جو عاجزی اختیار کرنے سے، بے نفسی کی وجہ سے تمہارے دل میں آ گیا تھا یہ پھر پھوٹنا شروع ہو جائے گا۔اور جس طرح کھیت میں جب بیج باہر نکلتا ہے، یہاں بھی آپ نے دیکھا ہوگا، فصلیں لگتی ہیں تو تھوڑی تھوڑی ہریالی نظر آنی شروع ہو جاتی ہے۔زمین پر مٹی اور ہریالی دونوں نظر آ رہی ہوتی ہیں۔تو اس عاجزی کا بیج جو دل کی زمین پر ایمان کی مضبوطی کے لئے لگایا گیا ہے تب اگنا شروع ہو گا جب تم ہر قسم کی لغویات سے بھی بچو گے، تم تمام قسم کی برائیوں کو بھی چھوڑو گے۔لیکن ابھی نرم حالت میں ہو گا۔اس نے پوری طرح زمین کو ڈھانکا بھی نہیں ہوگا۔چلنے والے کے پاؤں تلے آ کے کچلا بھی جاسکتا ہے۔شیطان کے حملوں سے بھی وہ کچلا جا سکتا ہے۔اپنی اناؤں اور جھوٹی غیرتوں کے نیچے کچلا جا سکتا ہے۔پھر آگے فرمایا کہ جب زکوۃ دو گے۔مالی قربانی کرو گے اور اپنے پاک مال سے ، حلال ذریعہ سے کمائے ہوئے مال سے زکوۃ دو گے۔یہ نہیں کہ مالی دباؤ سے مجبور ہوکر شراب بیچنے یا اس قسم کے جو دوسرے کاروبار ہیں ان میں پڑ جاؤ۔ایسے مال پر اگر تم چندہ دو گے تو اس سے مال پاک نہیں ہوسکتا۔زکوۃ کا مطلب ہے کہ پاکیزہ مال اور مال کو پاک کرنے کے لئے تمہاری روحانیت کو