خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 541
خطبات مسرور جلد سوم 541 خطبہ جمعہ 2 ستمبر 2005ء رہنا چاہئے۔ان راستوں پر چلنا چاہئے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے لئے متعین کئے ہیں۔آپ فرماتے ہیں : ” ہماری جماعت کو واجب ہے کہ اب تقویٰ سے کام لے اور اولیاء بنے کی کوشش کرے۔پھر فرماتے ہیں : یا درکھو کہ بچے اور پاک اخلاق راستبازوں کا معجزہ ہے جن میں کوئی غیر شریک نہیں۔کیونکہ وہ جو خدا میں محو نہیں ہوتے وہ اوپر سے قوت نہیں پاتے اس لئے ان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ پاک اخلاق حاصل کر سکیں۔سوتم اپنے خدا سے صاف ربط پیدا کر و۔ٹھٹھا ہنسی ، کینه وری ، گنده زبانی، لالچ، جھوٹ ، بدکاری، بد نظری ، بد خیالی ، دنیا پرستی، تکبر، غرور تکبر اور غرور ہی ہے جو بہت سارے جھگڑوں کی بنیاد بنتا ہے ) خود پسندی ( یہ بھی بہت بڑی وجہ ہے ، جھگڑوں کی بنیاد کی ) شرارت، کج بحثی (بلا وجہ بحث میں پڑ جاتے ہیں۔فرمایا کہ ) سب چھوڑ دو۔پھر یہ سب کچھ تمہیں آسمان سے ملے گا (یعنی اعلیٰ اخلاق تمہیں تب ملیں گے۔اللہ تعالیٰ کا قرب تب ملے گا ) جب تک وہ طاقت بالا جو تمہیں اوپر کی طرف کھینچ کر لے جائے تمہارے شامل حال نہ ہو اور روح القدس جو زندگی بخشتا ہے تم میں داخل نہ ہو تب تک تم بہت ہی کمزور اور تاریکی میں پڑے ہوئے ہو۔بلکہ ایک مردہ ہو جس میں جان نہیں۔اس حالت میں نہ تو تم کسی مصیبت کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ اقبال اور دولتمندی کی حالت میں کبر اور غرور سے بچ سکتے ہو ( بہت سارا کبر اور غرور پیسہ آنے کی وجہ سے آجاتا ہے اگر اپنی زندگیوں میں غور کریں تو آپ کو نظر آئے گا ) اور ہر ایک پہلو سے تم شیطان اور نفس کے مغلوب ہو۔سو تمہارا علاج تو در حقیقت ایک ہی ہے کہ روح القدس جو خاص خدا کے ہاتھ سے اترتی ہے تمہارا منہ نیکی اور راستبازی کی طرف پھیر دے۔تم ابْنَاءُ السَّمَاء بنون أَبْنَاءُ الْأَرْضِ (آسمان کی طرف جانے والے بنو ، زمین کی طرف نہیں ) اور روشنی کے وارث بنو۔نہ تاریکی کے عاشق۔تا تم شیطان کی گزرگاہوں سے امن میں آ جاؤ۔کیونکہ شیطان کو ہمیشہ رات سے غرض ہے دن سے کچھ غرض نہیں۔کیونکہ وہ پرانا چور ہے جو تاریکی میں قدم رکھتا ہے۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحه 45)