خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 540 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 540

خطبات مسرور جلد سوم 540 خطبہ جمعہ 2 ستمبر 2005ء کسی حق کے ادا کرنے کے لئے سزا ہوگی اور سزا سے علیحدگی ہو ہی جاتی ہے۔سزا اس لئے نہیں ہو گی کہ اس نے خلیفہ وقت کو کیوں کچھ کہا۔خلیفہ وقت کو کہنے کے لئے تو سزا کی ضرورت ہی نہیں ہے۔اس نے تو خود اعلان کر دیا کہ میں نظام جماعت میں شامل نہیں ہوں ، ہمیں بیعت میں شامل نہیں ہوں اس لئے اس کی فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔وہ تو خود علیحدہ ہو رہا ہے۔پھر وہ جانے اور اس کا خدا جانے۔پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ بہت زیادہ محبت ہو تو اس وجہ سے ٹھوکر لگتی ہے۔بعض دفعہ اس طرح ہوتا ہے کہ بچے کو سزا ملی ہے تو اس سے محبت کی وجہ سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔بچے کی محبت غالب آ جاتی ہے اور نظام جماعت کے خلاف ماں باپ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، بہن بھائی ایک دوسرے کی محبت غالب آنے کی وجہ سے نظام کے فیصلوں پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔اس طرح بعض دوسرے رشتے بھی ہیں۔تو بہر حال محبت اور غضب کی وجہ سے یعنی ان دونوں میں شدت کی وجہ سے یہ برائیاں عموماً پیدا ہوتی ہیں۔پس ہر احمدی کو یہ بھی ہر وقت ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جب بھی ایسے معاملات ہوں اور بیچ بیچ ہو جاتی ہے، نظام جماعت سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں، قضا سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔لیکن ہمیشہ ٹھنڈے دل سے ان فیصلوں کو تسلیم کرنا چاہئے۔اگر کوئی اپیل کا حق ہے تو ٹھیک نہیں تو جو فیصلہ ہوا ہے اس کو ماننا چاہئے۔کوئی رشتہ کوئی تعلق نظام جماعت اور نظام خلافت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر غالب نہیں آنا چاہئے۔نہیں تو یہ عہد کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے یہ دعوے کھو کھلے ہیں۔پس اگر اس دعوے کو سچا ثابت کرنا ہے تو ہر تعلق کو خالصت اللہ بنانا ہے۔اپنی عبادتوں کے بھی حق ادا کرنے ہیں۔ایک دوسرے کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں اور نظام کا بھی احترام کرنا ہے۔تو پھر ان دعاؤں کے وارث بنیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں کے لئے کیں اور اُن توقعات پر پورا اتریں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں سے رکھی ہیں۔اگر ہم بچے اور پکے احمدی ہیں تو ہمیں ہمیشہ ان تو قعات پر پورا اترنے کی کوشش کرتے