خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 28

خطبات مسرور جلد سوم 28 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء کم ہے با قاعدہ نمازوں پر لوگ نہیں آتے۔مومن کو تو ہر وقت اپنے نامہ اعمال میں نیکیوں میں زیادہ ہونے کا سوچنا چاہئے۔اس لئے کوشش کر کے نماز باجماعت کی طرف ہر احمدی توجہ دے کہ جتنا زیادہ سے زیادہ ثواب کما سکے کمالے اور صحیح مومن کہلا سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ تمام انسانوں کو ایک نفس واحدہ کی طرح بناوے اس کا نام وحدت جمہوری ہے۔جس سے بہت سے انسان بحالت مجموعی ایک انسان کے حکم میں سمجھا جاتا ہے۔مذہب سے بھی یہی منشاء ہوتا ہے کہ تسبیح کے دانوں کی طرح وحدت جمہوری کے ایک دھاگے میں سب پروئے جائیں یہ نمازیں با جماعت جو کہ ادا کی جاتی ہیں وہ بھی اسی وحدت کے لئے ہیں تاکہ کل نمازیوں کا ایک وجود شمار کیا جاوے۔اور آپس میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم اس لئے ہے کہ جس کے پاس زیادہ نور ہے وہ دوسرے کمزور میں سرایت کر کے اسے قوت دیوے۔حتی کہ حج بھی اسی لئے ہے۔اس وحدت جمہوری کو پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی ابتداء اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے کی ہے کہ اول یہ حکم دیا کہ ہر ایک محلہ والے پانچ وقت نمازوں کو باجماعت محلہ کی مسجد میں ادا کریں۔تا کہ اخلاق کا تبادلہ آپس میں ہو۔اور انوار مل ملا کر کمزوری کو دور کر دیں اور آپس میں تعارف ہو کر انس پیدا ہو جاوے۔تعارف بہت عمدہ شے ہے کیونکہ اس سے انس بڑھتا ہے جو کہ وحدت کی بنیاد ہے۔حتی کہ تعارف والا دشمن ایک نا آشنا دوست سے بہت اچھا ہوتا ہے کیونکہ جب غیر ملک میں ملاقات ہو تو تعارف کی وجہ سے دلوں میں اُنس پیدا ہو جاتا ہے۔وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ کینہ والی زمین سے الگ ہونے کے باعث بغض جو کہ عارضی شے ہوتا ہے وہ تو دور ہو جاتا ہے اور صرف تعارف باقی رہ جاتا۔پھر دوسرا حکم یہ ہے کہ جمعہ کے دن جامع مسجد میں جمع ہوں کیونکہ ایک شہر کے لوگوں کا ہر روز جمع ہونا تو مشکل ہے۔اس لئے یہ تجویز کی کہ شہر کے سب لوگ ہفتہ میں ایک دفعہ مل کر تعارف اور وحدت پیدا کریں۔آخر کبھی نہ کبھی تو سب ایک ہو جائیں گے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 100 101 جدید ایڈیشن ) تو جمعہ کی طرف بھی توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔جو معلومات میں نے لی ہیں