خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 27
خطبات مسرور جلد سوم 27 خطبہ جمعہ 14 / جنوری 2005ء ایک لفظ جو بولتا ہے وہ نشانہ دعا کا ہوتا ہے۔اگر نماز میں دل نہ لگے تو پھر عذاب کے لئے تیار رہے۔کیونکہ جو شخص دعا نہیں کرتا وہ سوائے اس کے کہ ہلاکت کے نزدیک خود جاتا ہے اور کیا ہے۔ایک حاکم ہے جو بار بار اس امر کی ندا کرتا ہے کہ میں دکھیاروں کا دکھ اٹھاتا ہوں مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں۔میں بہت رحم کرتا ہوں۔بیکسوں کی امداد کرتا ہوں۔لیکن ایک شخص جو کہ مشکل میں مبتلا ہے اس کے پاس سے گزرتا ہے اور اس کی ندا کی پرواہ نہیں کرتا۔نہ اپنی مشکل کا بیان کر کے طلب امداد کرتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہو گا۔یہی حال خدا تعالیٰ کا ہے کہ وہ تو ہر وقت انسان کو آرام دینے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ کوئی اس سے درخواست کرے۔قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے کہ نافرمانی سے باز رہے اور دعا بڑے زور سے کرے۔کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے تب آگ پیدا ہوتی ہے“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 54 جدید ایڈیشن - البدر ، مورخه یکم جولائی 1904ء صفحه (6) تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مشکلیں دور کرنے کے لئے تمہیں پکار رہا ہے۔اس کی آواز کو سنو ،اس کی طرف جاؤ اور اپنی درخواستیں پیش کرو، اپنی ضروریات پوری کرو۔لیکن یاد رکھو کہ درخواست بھی اس کی قبول ہو گی ، دعا بھی اس کی قبول ہو گی، جو نافرمان نہ ہو۔اس کے حکموں پر عمل کرنے والا ہو، ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی کرنے والا ہو۔پھر نماز باجماعت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں که : " با جماعت نماز پڑھنا کسی شخص کے اکیلے نماز پڑھنے سے 25 گنا زیادہ ثواب کا موجب ہے۔مزید فرمایا اور رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے نماز فجر پر جمع ہوتے ہیں۔(مسلم كتاب المساجد ومواضع الصلوة باب فضل صلاة الجماعة۔۔۔۔۔۔پس جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے نماز با جماعت کی ادائیگی کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہاں اس ملک میں جماعت کے افراد مختلف جگہوں پہ پھیلے ہوئے ہیں اور اس جگہ پر صرف مسجد ہے اور یہاں بھی جماعت کی تعداد تھوڑی سی ہے۔باقی جگہ مسجد نہیں ہے لیکن نماز سینٹرز ہیں ،مشن ہاؤس ہیں، وہاں اکٹھے ہونا چاہئے۔لیکن میری اطلاع کے مطابق اس طرف توجہ