خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 29
خطبات مسرور جلد سوم 29 خطبہ جمعہ 14 جنوری 2005ء ان سے مجھے پتہ لگا ہے کہ اکثر لوگ دوسرے تیسرے ہفتے جمعے کو جمعہ پڑھنے کے لئے آتے ہیں اس طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔اس بارے میں تو بڑا واضح حکم ہے کہ جمعہ کے لئے آؤ اور کاروبار کو چھوڑ دو۔احمدیوں کو تو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ یہ اسی سورۃ میں ہی حکم ہے جس میں آخرین کو پہلوں کے ساتھ ملانے کا حکم ہے۔تو جمعے کے بعد پھر اجازت ہے کہ آپ کا روبار کر لیں۔اور جو اس طرح کریں گے جمعے کی نماز کے لئے کاروبار بند کریں اور پھر جمعے کے بعد شروع کریں تو ان کے کاروبار میں اللہ تعالیٰ کا فضل بھی شامل ہوگا۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہروں کی پسندیدہ جگہیں ان کی مساجد اور شہروں کی نا پسندیدہ جگہیں ان کی مارکیٹیں ہیں۔(مسلم کتاب المساجد باب فضل الجلوس في مصلاه بعد الصبح وفضل المساجد) پس کون ہے جو پسندیدہ اور اچھی چیز کو چھوڑ کر نا پسندیدہ چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔بعض لوگ کہتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ہم جس چیز کو بھی ہاتھ ڈالتے ہیں جس کا روبار میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں اس میں بر بادی ہو جاتی ہے، کوئی برکت نہیں پڑتی۔اور پھر اس وجہ سے ان لوگوں کے خیالات اور ان کے ذہن بڑے بیہودہ ہو جاتے ہیں۔تو اگر عبادتوں کا حق ادا کرتے ہوئے پھر کاروبار بھی کریں گے تو اللہ تعالیٰ برکت بھی ڈالے گا۔جمعے کی نماز کے وقت بجائے جمعے پہ آنے کے اگر کاروبار کی طرف ہی دھیان رہے گا اللہ تعالیٰ کے حکموں کو اگر ٹالیں گے تو بے برکتی ہی رہے گی۔پس نمازوں اور جمعہ کے اوقات میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا کریں۔بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کام کی جگہ دور ہے اور دو تین احمدی کسی نہ کسی جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔سینٹر میں نہیں آ سکتے تو جو تین چار افراد ہیں وہ اپنی جگہ پر ہی کسی کو اپنے میں سے امام مقرر کر کے جمعہ پڑھ لیا کریں۔لیکن جمعہ ضرور پڑھنا چاہئے۔تو بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں (یہ جمعہ کی مثال دینے کے بعد ) کہ : ” پھر سال کے بعد عیدین میں یہ تجویز کی کہ دیہات اور شہر کے لوگ مل کر نماز ادا کریں