خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 207

خطبات مسرور جلد سوم 207 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005 ء جذبات کے ساتھ دعا دیا کرتے تھے۔چنانچہ غزوہ خیبر کے واقعہ میں ذکر آتا ہے کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ سے شادی کی تو شادی والی رات حضرت ابوایوب خالد بن زید نے رات بھر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کے باہر پہرہ دیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح بیدار ہوئے اور دیکھا کہ ابوایوب باہر پہرہ دے رہے ہیں تو ان سے پوچھا: مَالَكَ يَا أَبَا أيوب؟ کہ ابو ایوب خیریت تو ہے؟ کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ کے بارے میں اس عورت سے خدشہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ آپ کو نقصان نہ پہنچائے کیونکہ جنگ خیبر میں آپ نے اس کے باپ، اس کے خاوند اور اس کے لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے اور اس نے نیا نیا اسلام قبول کیا ہے اس لئے مجھے اس کی طرف سے آپ کے متعلق خوف پیدا ہوا۔راوی بیان کرتے ہیں کہ ان کا یہ اخلاص دیکھ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی۔اللَّهُم احْفَظْ اَبَا أَيُّوبَ كَمَا بَاتَ يَحْفَظُنِی کہ اے اللہ تو ابوایوب کی اس طرح حفاظت فرما جس طرح اس نے رات بھر میری حفاظت کی ہے۔(الروض الأنف ذكر غزوة خيبر – بقية امر خيبر حاشيه) پھر ایک اور خادم کی خدمت پر اس کو دعا دینے کے واقعہ کا یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ بیت الخلاء میں گئے تو میں نے آپ کے لئے پانی رکھا۔( جانے سے پہلے پانی رکھ دیا وہاں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کس نے رکھا ہے تو آپ کو بتایا گیا کہ ابن عباس نے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی کہ اللَّهُمَّ فَقِهْهُ فِى الدِّينِ کہ اے اللہ ! اس کو دین کی سمجھ بوجھ عطا کر۔(بخارى كتاب الوضوء باب وضع الماء عند الخلاء ) دیکھیں تھوڑی سی خدمت پر کتنی جامع دعا آپ نے دی۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔اسماعیل بن ابراہیم بن عبد اللہ بن ابی ربیعہ اپنے والد اور اپنے دادا کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس ہزار درہم مجھ سے بطور قرض لئے۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آیا تو آپ نے مجھے رقم لوٹا دی اور دعا دیتے ہوئے فرمایا۔اللہ تعالیٰ تیرے اہل اور مال میں برکت دے۔نیز فرمایا قرض دینے کا بدلہ "