خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 206

خطبات مسرور جلد سوم 206 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005 ء ہے کہ جب مسلمانوں پر ملکہ میں طرح طرح کے مصائب ڈھائے گئے تو انہوں نے خدا تعالیٰ کے اذن سے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی۔مسلمان ادھر چلے گئے۔اس وقت شاہ حبشہ نے ان کو اپنے ملک میں پناہ دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بادشاہ نجاشی کے اس احسان کو ہمیشہ یادرکھا اور ہر موقعہ پر آپ نے اس احسان کی شکر گزاری کا اظہار اپنے عمل سے ، اپنے قول سے ، اپنی باتوں سے کیا۔چنانچہ جب نجاشی کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے استقبال کیلئے خود کھڑے ہوئے اور آپ کے صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ہم کافی ہیں۔آپ نے فرمایا وہ ہمارے ساتھیوں کے ساتھ بڑے اخلاق سے پیش آتے تھے۔بڑی عزت کی تھی اور ان کو اپنے پاس رکھا تھا۔تو میں پسند کرتا ہوں کہ ان کے اس 66 احسان کا بدلہ خودا تاروں۔“ (السيرة الحلبية - باب ذكر مغازيه ﷺ ، غزوة خيبر ) پھر ایک واقعہ کا یوں ذکر ہے کہ جب جنگ بدر کے موقعہ پر قیدی لائے گئے تو ان میں حضرت عباس بھی تھے اور آپ کے تن پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے کوئی قمیص تلاش کی لیکن چونکہ وہ لمبے قد کے تھے کسی کی قمیص پوری نہیں آتی تھی۔تو صحابہ نے جب یہ دیکھا تو پھر عبداللہ بن ابی بن سلول کی قمیص آپ کو پوری آ سکتی تھی وہ لمبے قد کا تھا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔اس پر حضور نے اس کی قمیص لے کر آپ کو پہنا دی۔“ باوجود اس کی بعد کی بے انتہا د زبانیوں اور بد نیتوں اور بدطینتی کے حملوں کے روایت میں آتا ہے کہ اس کی وفات پر جب اسے قبر میں اتارا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے اس کو باہر نکالنے کا حکم دیا اور اس کا سر اپنے گھٹنے پر رکھا اور اس کو اپنا لعاب لگایا اور اس کے احسان کا بدلہ چکاتے ہوئے اسے اپنی قمیص پہنائی۔“ (بخارى - كتاب الجنائز - باب هل يخرج الميت من القبر واللحد لعلة- حديث نمبر 1350) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خادموں کو بھی ان کی خدمت کی وجہ سے شکر گزاری کے