خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 208
خطبات مسرور جلد سوم 208 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء شکریہ کے ساتھ ادا ئیگی ہے۔(سنن النسائى - كتاب البيوع – باب الاستقراض) اکثر ایسا ہوتا تھا کہ آپ قرض لوٹاتے تھے تو زائد رقم بھی عطا فرما دیا کرتے تھے اور یہ اسوہ آپ نے اس لئے قائم کیا کہ جنہوں نے قرض لیا ہوا ہے وہ جب واپس کریں تو احسن طریق سے واپس کریں۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی دستور تھا کہ جب کوئی خوشی کی خبر ملتی تو فرماتے: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ - کہ سب تعریف اس خدا کے لئے ہے جس کی نعمت سے نیکیاں کمال کو پہنچتی ہیں اور جب کوئی ایسا معاملہ پیش آتا جسے آپ نا پسند فرماتے تو یہ دعا کرتے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَال میں ہر حال میں اللہ کی حمد کرتا ہوں۔(كنز العمال -باب في الدعاء - ادعية السرور والحزن حديث نمبر 5027) اور یہ شکر گزاری کے جذبات آپ اپنی امت میں بھی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آپ کی یہ خواہش تھی کہ آپ کی امت کا ہر فرد اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنے۔اور اللہ کی تعریف کرنے والا اور اس کی حمد بیان کرنے والا بنے۔چنانچہ حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب کبھی کوئی بندہ کھانے کا لقمہ کھائے تو اس پر اللہ کی حمد بیان کرے اور جب پانی کا گھونٹ پیئے تب بھی اس پر اللہ کی حمد بیان کرے یعنی چھوٹی سے چھوٹی نعمت پر بھی اللہ کی حمد اور شکر کرے۔(مسلم ، كتاب الذكر والدعاء ، باب استحباب حمد الله تعالى بعد الاكل والشرب) پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کہ اب کیا حال ہے اس نے کہا اچھا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا کہ اب کیا حال ہے۔اس نے کہا اچھا ہوں۔پھر تیسری دفعہ پوچھا اس سے۔تو اس نے کہا کہ اچھا ہوں اور خدا کی حمد و شکر ادا کرتا ہوں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہی میں چاہتا ہوں کہ تم اس طرح کہو۔(مجمع الزوائد للهيثمي - كتاب البر والصلة ـ باب ما يقول اذا سئل عن حاله )