خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 538
خطبات مسرور جلد سوم والا ہے۔538 خطبہ جمعہ 2 ستمبر 2005ء پس یہ دعا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا اور نصیحت کے مطابق ہی ہے۔تو دین کا علم اور دین پر قائم رہنا اور دین پر عمل کرنا اور اللہ اور اس کے رسول کے حکموں پر عمل کرنا اللہ کے فضل سے ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے اپنے دلوں کو ٹیڑھا ہونے سے بچانا نہایت ضروری ہے۔اس لئے ہر احمدی کو خاص طور پر یہ دعا کرتے رہنا چاہئے۔بعض معمولی باتیں ہوتی ہیں جو دلوں کو ٹیڑھا کرنے کا باعث بن جاتی ہیں اور عموماً یہی چیز میں ہوتی ہیں۔مثلاً دو باتیں ہیں ایک شدید محبت اور ایک شدید غصہ جس میں انتہا پائی جاتی ہو۔تو اصل میں جو شدید محبت ہے وہی شدید غصے کی وجہ بنتی ہے۔جب غصہ آتا ہے تو وہ یا تو نفس کی محبت غالب ہونے کی وجہ سے آتا ہے یا اپنے کسی قریبی عزیز کی محبت غالب ہونے کی وجہ سے آتا ہے۔بعض دفعہ میاں بیوی کی جو گھریلو لڑائیاں یا خاندانی لڑائیاں یا کاروباری لڑائیاں ہوتی ہیں ان میں انسان مغلوب الغضب ہو کر ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔تو جب یہ مغلوب الغضب ہوتا ہے تو اس وقت اپنے نفس سے ہی پیار کر رہا ہوتا ہے۔اس کو اپنے نفس کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہوتی اور اس کو پتہ نہیں لگ رہا ہوتا کہ کیا کہ رہا ہے۔بالکل ہوش وحواس غائب ہوتے ہیں۔قضاء میں بعض معاملات آتے ہیں اگر فیصلہ مرضی کے مطابق نہ ہو، ایک فریق کے حق میں نہ ہو تو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ہوش و حواس میں نہیں رہتے۔صاف جواب ہوتا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو۔اور پھر جب تعزیر ہو جاتی ہے، سزا مل جاتی ہے تو پھر معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے معافی مانگتے ہیں کہ غلطی ہو گئی ، ہمیں معاف کر دیں اور پھر فیصلہ پر بھی عملدرآمد کر دیں گے۔تو یہ تو وہی حساب ہو جاتا ہے ان کا کہ سو جوتیاں بھی کھالیں اور سو پیاز بھی کھالئے۔لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی ، جھوٹی اناؤں نے انہیں اپنے قبضے میں لیا ہوتا ہے۔اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اطاعت کرنی ہے۔ویسے اگر اپنے اوپر کوئی بات نہ ہو، اپنا مسئلہ نہ ہو تو دعوے یہ ہوتے ہیں کہ نظام جماعت پر، خلیفہ وقت پر ہماری تو جان بھی قربان ہے۔لیکن اپنے خلاف فیصلہ ہو جائے تو پھر وہ نہیں مانتے۔اور پھر نہ صرف مانتے نہیں بلکہ جماعت کے خلاف