خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 539
خطبات مسرور جلد سوم 539 خطبہ جمعہ 2 ستمبر 2005ء اعتراض بھی کرنے شروع ہو جاتے ہیں۔تو ایسے جو لوگ ہیں وہ اس زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کے دل آہستہ آہستہ مستقل ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔جھوٹی اناؤں کی خاطر ، چند ایکڑ زمین کی خاطر وہ اپنا دین بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے عزیز جو مجلس لگاتے ہیں یا ان کو اپنی مجلسوں میں بلاتے ہیں یا بعض دفعہ پاس بٹھا کر کھانا کھلا لیتے ہیں کہ جی مجبوری ہو گئی تھی۔بعض دفعہ یہ بہانے بن رہے ہوتے ہیں کہ فلاں عزیز کی وفات پر وہ آیا تھا اس لئے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا۔تو ایسے لوگ بھی اس مجرم کی طرح بن رہے ہوتے ہیں۔نظام جماعت کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہوتی۔خلیفہ وقت کے فیصلوں کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہوتی۔جماعت کی تعزیر جو ایک معاشرتی دباؤ کے لئے دی جاتی ہے، اس کو اہمیت نہ دیتے ہوئے چاہے ایک دفعہ ہی سہی اگر کسی ایسے سزایافتہ شخص کے ساتھ بیٹھتے ہیں جس کی تعزیر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زبانِ حال سے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ سزا تو ہے لیکن کوئی حرج نہیں ، ہمارے تمہارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے تعلقات قائم ہیں۔سوائے بیوی بچوں یا ماں باپ کے۔ان کے تعلقات بھی اس لئے ہوں کہ سزا یافتہ کو سمجھانا ہے۔اور قریبی ہونے کی وجہ سے ان میں دردزیادہ ہوتا ہے اس لئے ایک درد سے سمجھانا ہے۔ان کے لئے دعائیں کرنی ہیں۔اس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی جماعتی تعزیر یافتہ سے تعلق رکھتا ہے تو میرے نزدیک اسے نظام جماعت کا کوئی احساس نہیں ہے۔اور خاص طور پر عہد یداران کو یہ خاص احتیاط کرنی چاہئے۔پھر بعض دفعہ بعض لوگ غصے میں ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جو ہر مخلص احمدی کو برے لگتے ہیں۔مثلاً لڑائی ہوئی یا گھریلو ناچاقیاں ہوئیں۔بیوی سے تعلقات خراب ہوئے تو کہہ دیا کہ جو تم نے کرنا ہے کر لو۔خلیفہ وقت بھی کہے گا تو میں نہیں مانوں گا۔تو ایسے لوگ پھر آہستہ آہستہ جماعت سے بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔لیکن جن کے سامنے یہ باتیں ہوتی ہیں وہ پریشانی کے خط لکھتے ہیں کہ دیکھیں جی اس کو خلیفہ وقت کا بھی احترام نہیں ہے اس کو سزاملنی چاہئے۔ایسے لوگوں کو سزا دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔اگر ان کے اندر جماعت سے تعلق کا کوئی ہلکا سا بھی شائبہ ہے تو جب تعز یز ہوگی یا فیصلہ ہو گا تو ان کو احساس ہوگا کہ ہمیں مان لینا چاہئے۔اور اگر نہیں مانیں گے تو