خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 537 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 537

خطبات مسرور جلد سوم 537 خطبہ جمعہ 2 ستمبر 2005ء کی جگالی کرتے رہیں۔بچوں میں ، آپس میں اس کے ذکر چلتے رہیں، تقریروں کے موضوعات کے ذکر چلتے رہیں، نصائح کے ذکر چلتے رہیں تو پھر ہی آپ کو فائدہ ہوگا۔پھر جب آپ سوچیں گے اور غور کریں گے اور اپنے جائزے لیں گے کہ ہم سے کیا توقعات ہیں اور ہم کس حد تک ان پر پورا اتر رہے ہیں، اس جگالی کے نتیجہ میں وہ جائزے بھی سامنے آئیں گے تو پھر اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی۔ہر وقت ہمیں یہ خوف ہونا چاہئے کہ شیطان کہیں ہمارے دلوں پر قبضہ نہ کر لے کیونکہ وہ اسی طاق میں بیٹھا ہے۔نیکی کے راستوں کی طرف توجہ ہونے کے بعد برائی کے راستوں کی طرف نہ ہم چل پڑیں۔اللہ تعالیٰ کے دین پر مضبوطی سے قائم ہونے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے دین سے دور لے جانے والی حرکات ہم سے سرزد نہ ہوتی ہوں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے کہ یا مُقَلبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ کہ اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔اُم سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا پر مداومت کی وجہ پوچھی ، با قاعدگی کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا اے ام سلمہ ! انسان کا دل خدا تعالیٰ کی دوانگلیوں کے درمیان ہے۔(ایک تمثیل بیان کی ہے، اللہ میاں کی تو دو انگلیاں نہیں ہیں ) جس شخص کو ثابت قدم رکھنا چاہے اس کو ثابت قدم رکھے اور جس کو ثابت قدم نہ رکھنا چاہے اس کے دل کو ٹیڑھا کر دے۔(ترمذی، کتاب الدعوات باب ماجاء في عقد التسبيح باليد) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اتنی با قاعدگی سے یہ دعا کرتے تھے تو ہمارے پر کس قد رفرض ہے کہ یہ دعا کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو سیدھا رکھے۔خلافت جو بلی کے استقبال کے لئے میں نے جو دعا ئیں بتائی ہیں اس میں یہ قرآنی دعا بھی شامل ہے کہ ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً - إِنَّكَ أنْتَ الْوَهَّابُ ﴾ (آل عمران (9) کہ اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور اپنی جناب سے ہمیں رحمت عطا کر۔یقینا تو بہت عطا کرنے