خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 500
خطبات مسرور جلد سوم 500 خطبه جمعه 19 اگست 2005 ء چہرہ مبارک پر کوئی ایسے آثار نہیں تھے جس سے بہت زیادہ ناراضگی کا اظہار ہوتا ہو۔(سنن ابن ماجة - كتاب الاحكام - باب الحكم فيمن كسر شيئًا) لیکن آپ نے بڑے آرام سے سمجھا دیا۔تو اپنے عملی نمونے سے یہ بتایا کہ جو تم نے حرکت کی غلط کی۔اور سزا یہ ہے کہ تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا۔یہی کھاؤں گا جو تم نے ضائع کرنے کی کوشش کی ہے۔اور جو پیالہ تم نے تو ڑا ہے اس کے بدلے میں بھی تم اپنے پاس سے دو۔اور جو کھانا میرے لئے بنایا تھا اب وہ میں نہیں کھاؤں گا بلکہ وہ بیوی کھائے گی جس سے زیادتی ہوئی ہے۔لیکن بڑے تحمل سے، بغیر غصے کے یہ سب باتیں سمجھا دیں کہ کسی سے بھی زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔اور یہ بات بھی سمجھا دی کہ یہ جو آپس کی Jealousies ہیں ان کو بھی اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ ایک دوسرے سے اعلیٰ اخلاق دکھائے جائیں۔اور اب اس کا طریقہ یہی ہے کہ اب اپنا پیالہ لوٹاؤ۔یہ ویسے بھی حکم ہے کہ تھنے کو احسن طریق پر لوٹایا جائے اس لئے اب احسن طریق یہی ہے کہ جو کھانا میرے لئے تیار کیا گیا تھا وہ بھی ان کو واپس بھجوا دیا جائے۔تو یہاں اگر اس طرح عمل کیا جائے ، اگر عورتیں عمل کریں تو دیکھیں ہر سطح پر رشتے کتنے مضبوط ہوتے چلے جاتے ہیں۔بچوں کو اعلیٰ اخلاق سکھانے اور نصیحت کرنے کا انداز بھی آپ کا بڑا عجیب اور پیارا ہوتا تھا۔ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ابو رافع بن عمرو کے چچا سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں ابھی بچہ ہی تھا تو انصار کی کھجوروں پر پتھر مار مار کر پھل گرایا کرتا تھا۔آنحضرت علیل اللہ کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ۔عرض کیا گیا کہ یہاں ایک لڑکا ہے جو ہماری کھجوروں کو پتھر مارتا اور پھل گراتا ہے۔چنانچہ مجھے آنحضرت علی اللہ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے پوچھا کہ اے لڑکے تو کیوں کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔میں نے عرض کیا تا کہ میں کھجوریں کھا سکوں۔فرمایا کہ آئندہ کھجور کے درخت کو پتھر نہ مارنا۔ہاں جو پھل گر جائے اسے کھا لیا کر۔پھر آپ نے میرے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور دعا دی۔کہ اے میرے اللہ ! اس کا پیٹ بھر دے۔(مسنداحمد بن حنبل جلد 5 صفحه 31 مطبوعه (بيروت) |