خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 501 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 501

خطبات مسرور جلد سوم 501 خطبه جمعه 19 اگست 2005 ء پتھر مارنے سے تو ہر قسم کی کچی پکی کھجوریں گر جاتی ہیں۔دوسرے درختوں پہ بھی پھل ضائع ہو جاتا ہے،۔نقصان ہوتا ہے بلاوجہ کا۔اس لئے آپ نے اس سے منع فرمایا۔لیکن اگر بھوک لگی ہوئی ہے، بہت برا حال ہے، تو فرمایا جو نیچے پکی ہوئی گری ہوتی ہیں ان میں سے کھالیا کرو۔لیکن سب سے اچھی بات جو میں تمہارے ساتھ کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ تمہیں دعا دیتا ہوں کہ ایسے کھانے کی نوبت ہی نہ آئے۔تمہارا پیٹ یا حرص یا لالچ جو بھی ہے اگر ہے تو بھرا ر ہے تاکہ تم کبھی کسی دوسرے کی چیز پر نظر نہ رکھو۔اور یہی اعلیٰ اخلاق بھی ہیں۔دوسرے دعا دے کر اس بچے کو بھی اس طرف توجہ دلا دی کہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہئے اور جو جائز طریقے ہیں ان کو اختیار کرنا چاہئے۔اس سے مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔کل ہی مجھے کسی نے بتایا کہ ہمارے بیت الفضل کے قریب ایک خاتون گزر رہی تھیں۔انہوں نے اپنے بچے کو ایک تھیلا دے کر بھیجا، کسی گھر کے سیب باہر نکلے ہوئے نظر آ رہے تھے کہ جاؤ اور توڑ لاؤ۔اور جب گھر والا باہر نکلا تو فورا روانہ ہوگئیں اگر تو جائز سمجھ رہی تھیں تو نہیں رکنا چاہئے تھا۔اور یوں اس بچے کو بھی عادت پڑ گئی کہ شاید اس طرح کی چیزیں تو ڑنا جائز ہے۔تو اس میں قصور اس بچے کا نہیں بلکہ اس ماں کا تھا۔اگر بچوں کے اعلیٰ اخلاق ہو جائیں، ان کی تربیت ہو جائے تو آئندہ نسلوں میں بھی وہی اخلاق رائج ہوتے چلے جاتے ہیں۔پھر ایک بچے کو کھانے کے آداب سکھاتے ہوئے فرمایا ایک روایت میں اس کا ذکر آتا ہے۔حضرت عمر بن ابی سلمی رضی اللہ عنہ جو آنحضرت علی اللہ کے ربیب تھے ، حضرت ام سلمی کے بیٹے تھے بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں آنحضرت عیب اللہ کے گھر رہتا تھا۔کھانا کھاتے وقت میرا ہاتھ تیزی سے تھالی میں ادھر اُدھر گھومتا تھا۔یعنی بے صبری سے جلدی جلدی کھا تا اور اپنے آگے کا خیال بھی نہیں رکھ رہا تھا۔حضور نے میری اس عادت کو دیکھ کر فرمایا کہ کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔اور اپنے آگے سے کھاؤ۔حضور کی یہ نصیحت میں ہمیشہ یادرکھتا ہوں اور اس کے مطابق کھانا کھاتا ہوں۔عليه وسلم (بخارى - كتاب الاطعمة - باب التسمية على الطعام والاكل باليمين) |