خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 56
خطبات مسرور جلد سوم 56 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء سہولت کا مذہب ہے اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دونوں طرح سے کھول کر بیان فرما دیا ہے۔اب اسی دن کینیڈا سے نسیم مہدی صاحب کی مجھے مبارکباد کی فیکس آئی اور ساتھ یہ بھی تھا کہ آپ نے جمعہ نہیں ہو گا کہا تو ہم نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا، کیونکہ وہاں منفی 35 ڈگری ٹمپریچر تھا اور شدید ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی اور مسجد بھی اتنی نہیں جتنی تعداد تھی وہاں پتہ نہیں انہوں نے عید کس طرح پڑھی۔کہتے ہیں ساڑھے سات ہزار آدمی تھے جو عید پڑھنے آئے ہوئے تھے۔اس کی وجہ سے ہم نے بھی جمعہ نہیں پڑھا۔تو بعض مخصوص حالات میں اگر اس رخصت سے فائدہ اٹھا لیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا۔اور اگر پڑھ بھی لی ہے تب بھی کوئی بات نہیں۔حدیث بھی میں آپ کو سنا دیتا ہوں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دو عیدیں یعنی جمعہ اور عید اکٹھی آگئیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عید پڑھائی پھر فرمایا جو نماز جمعہ کے لئے آنا چاہے وہ بے شک جمعہ کے لئے آ جائے اور جو نماز جمعہ کے لئے نہیں آنا چاہتا وہ نہ آئے۔(ابن ماجه كتاب اقامة الصلوة والسنة فيها ـ باب ماجاء فيما اذا اجتمع العيدان فى يوم حدیث نمبر (1312) تو رخصت ہے اور مسجد میں بھی فیصلہ ہو سکتا ہے کہ پڑھنی ہے کہ نہیں۔یہ حالات کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے۔یہ کوئی اصول نہیں ہے کہ ضرور ہم ہر دفعہ جمعہ نہیں پڑھیں گے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ضرور پڑھا جائے۔تو حالات کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔谢谢谢