خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 55

خطبات مسرور جلد سوم 55 خطبہ جمعہ 28 /جنوری 2005ء انڈونیشین باشندوں اور دوسرے مسلمانوں، سب کو یہی ہدایت کی ہے کہ وہ جماعت یو کے سے رابطہ کریں۔اس پر بعض لوگوں نے اعتراض بھی کیا ہے؟ یہاں اعتراض تو فوراً آ جاتا ہے نا کہ آپ احمدیوں سے مدد لے رہے ہیں یہ تو غیر مسلم ہیں۔جس پر سفارتخانے نے بڑے تعجب کا اظہار کیا ہے کہ وہاں لوگوں کو جان کی پڑی ہوئی ہے، بھو کے مر رہے ہیں اور یہاں اس حالت میں بھی مسلم اور غیر مسلم کا جھگڑا شروع کیا ہوا ہے۔یہ ملاں جو ہے یہ کبھی ہمدردی خلق نہیں چاہتا، یہ صرف فتنہ اور فتنہ اور فتنہ اور فساد، اس کے علاوہ ان کا اور کچھ نقطہ نظر نہیں ہے۔اور اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے چالیس فٹ لمبائی کے 13 کنٹینر کی اس جماعت کے ذریعہ سے امداد جا چکی ہے تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار کلو وزن کی یہ امداد تھی۔جس میں 78 ہزار کھانے پینے کی ضروریات کی چیزیں تھیں۔اور ایک سو تیس ہزار (130,000) کپڑے اور دوسری چیزیں تھیں۔اللہ تعالیٰ ہماری یہ حقیر کوشش قبول فرمائے۔اور بغیر کسی خوف اور بغیر کسی نام کی خواہش کے یہ تمام خدمت کرنے والے ، خدمت میں مصروف رہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے ان سب کو جزا دے جنہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں اس میں حصہ لیا۔اللہ تعالیٰ دنیا کی بھی آنکھیں کھولے کہ وہ خدائے واحد کی پہچان کرنے والے ہوں اور امام الزمان کو پہچاننے والے ہوں اللہ کرے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا ) ایک بات کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں ، گزشتہ جمعہ پہ عید تھی۔تو صرف عید پڑھی گئی تھی جمعہ نہیں پڑھا گیا تھا۔اس پر بعض لوگوں نے سوال اٹھائے کہ ہمارے ہاں عید بھی پڑھی گئی اور جمعہ بھی پڑھا گیا۔اگر یہ ضروری تھا تو ہمیں جمعہ نہیں پڑھنا چاہئے تھا، آپ نے نہیں پڑھا۔تو اس بارے میں واضح کر دوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹ دی ہے۔اگر جمعہ پڑھا بھی گیا ہے تو وہ عین سنت کے مطابق ہے، کوئی حرج نہیں۔اور اگر بعض مخصوص حالات میں چھوٹ سے یا رخصت سے بھی فائدہ اٹھا لیا جائے ، اس پر بھی عمل کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔یہاں سر دملکوں میں لوگوں کا اکٹھا ہونا اور پھر وقت بھی تھوڑا ہوتا ہے بعض دفعہ مشکل ہو جاتا ہے تو اس لئے اس سے فائدہ اٹھایا گیا تھا۔اسلام