خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 554
خطبات مسرور جلد سوم 554 خطبہ جمعہ 9 ستمبر 2005ء تھے دوبارہ اسے قائم کرے۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه 213 214 جدید ایڈیشن) اللہ تعالیٰ کی معرفت جود نیا میں ختم ہو گئی دوبارہ لے کے آئے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : وو سواے دے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو ( جو اپنے آپ کو میری جماعت میں شامل سمجھتے ہو ) آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ سچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ہر ایک جوز کوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔نیکی کوسنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔یقین یا د رکھو کہ کوئی عمل خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ 66 سکتا جو تقویٰ سے خالی ہے۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ15) نیکی کے ادا کرنے کے جو لوازمات ہیں، باتیں ہیں ان کو پوری طرح ادا کرنا چاہئے۔اور بدی سے بیزاری ہونی چاہئے۔اس طرف توجہ ہی نہیں پیدا ہونی چاہئے۔پس یہ تقویٰ ہی ہے جوایمان کو بڑھاتا ہے۔آپ لوگ ہمیشہ، جیسا کہ میں نے کہا، اپنے جائزے لیتے رہیں۔اگر ہم خود ہی اپنے جائزے لیتے رہیں اور تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے یہ جائزے لیں تو کمزوریاں بھی سامنے آئیں گی اور اصلاح کی توفیق بھی ملے گی۔اللہ ہم سب کو اپنی رضا کو حاصل کرنے والا بنائے اور اس کی رضا حاصل کرتے ہوئے ہم نیکیوں میں قدم بڑھانے والے ہوں۔(آمین) 谢谢谢