خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 87
خطبات مسرور جلد سوم 87 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء دینے کی ضرورت ہے یعنی اس اعتراض کے جواب میں تو پھر وہ جواب اگر لکھنا ہے تو پہلے مرکز کو دکھا ئیں نہیں تو جیسا کہ میں نے کہا سیرت کا بیان تو ہر وقت جاری رہنا چاہئے۔یہاں بھجوائیں تا کہ یہاں بھی اس کا جائزہ لیا جا سکے اور اگر اس کے جواب دینے کی ضرورت ہو تو دیا جائے۔جماعت کے افراد میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بارے میں جس طرح میں نے کہا مضامین اور تقاریر کے پروگرام بنائے جائیں۔ہر ایک کے بھی علم میں آئے۔نئے شامل ہونے والوں کو بھی اور نئے بچوں کو بھی۔تاکہ خاص طور پر نو جوانوں میں، کیونکہ جب کالج کی عمر میں جاتے ہیں تو زیادہ اثر پڑتے ہیں۔تو جب یہ باتیں سنیں تو نو جوان بھی جواب دے سکیں۔پھر یہ ہے کہ ہر احمدی اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرے۔تا کہ دنیا کو یہ بتا سکیں کہ یہ پاک تبدیلیاں آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کی وجہ سے ہیں جو چودہ صدیوں سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی اسی طرح تازہ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مسجد داعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔اس فخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر تو حید کا جامہ نہ پہن لیا۔اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہنچ گئے۔اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصے میں پائی نہیں جاتی۔یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نصیب نہیں ہوئی۔یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جب کہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعا ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا اور پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جب کہ لاکھوں انسان شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر تو حید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے اور در حقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے